خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 625 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 625

خطبات طاہر جلد 16 625 خطبہ جمعہ 22 راگست 1997 ء یہ وہ موقع ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی مدد کی سخت ضرورت ہے ” جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا کہ وہ لوگ جو ہمارے بارے میں اور ہماری راہ میں سفر کرتے ہیں اور جہاد کرتے ہیں یعنی بالا رادہ کوشش کر کے ہم سے تعلق بڑھانا چاہتے ہیں ان کو یا د رکھنا چاہئے کہ لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ہم ہی ہیں جو اپنی راہوں کی طرف ان کی راہنمائی کرتے اور اپنی راہوں پر ہاتھ پکڑ کے ان کو چلاتے ہیں۔پس جب ہر تان اس بات پر ٹوٹی کہ اگر ہم نے جہاد کیا تو جہاد کی کامیابی اللہ کے منشاء پر مبنی ہے اور اس کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے تو پھر یہ سفر ایک کامیاب سفر ہوگا۔اس ضمن میں یاد رکھیں جَاهَدُوا ایک مرکزی نقطہ ہے اس میں۔اس سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو نصیحتیں فرمائی ہیں وہ جاهَدُوا کے متعلق تھیں۔تم اس طرح بیج کو پاک صاف کرو، اس طرح اس کو گاڑو، اس کی نگہداشت کرو، شیطان سے بچانے کی کوشش کرو یہ سب جَاهَدُوا فِینَا کی باتیں ہیں۔اگر تم یہ جاھد کا مضمون اپنی ذات میں اور اپنے ماحول میں جاری کرو گے تو پھر لَنَهْدِيَنَّهُم سُبُلَنا کا مضمون شروع ہوگا اور اگر یہ نہیں ہوگا تو لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا کا مضمون بھی اطلاق نہیں پائے گا۔فرماتے ہیں کہ: ”جو لوگ کوشش کرتے ہیں ہماری راہ میں انجام کار راہنمائی پر پہنچ جاتے ہیں جس طرح وہ دانہ تخم ریزی کا بدوں کوشش اور آب پاشی کے بے برکت رہتا بلکہ خود بھی فنا ہو جاتا ہے اسی طرح تم بھی اس اقرار کو ہر روز یاد نہ کرو گے، دعائیں نہ مانگو گے کہ خدایا ہماری مدد کر تو فضل الہی وارد نہیں ہوگا اور بغیر امداد الہی کے تبدیلی ناممکن ہے“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ: 174،173) یہ ایک روزمرہ کی حقیقت ہے اور اس میں ایک ذرہ بھر بھی شک نہیں کہ نو مبائعین کی نصیحت کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جماعت کو بھی ایک نصیحت کرتے چلے جارہے ہیں گویا وہ بھی نیا بیعت کنندہ بن گیا۔ہر احمدی نے بھی گویا پھر سے بیعت کی ہے اور یہ بیعت تو بہ ہے جس کی تشریح حضرت اقدس مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسے الفاظ میں فرمائی ہے کہ ہر روز باشعور طور پر یہ دیکھنا چاہئے۔