خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 624 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 624

خطبات طاہر جلد 16 624 خطبہ جمعہ 22 راگست 1997 ء اس بدی سے پاک کرنا پڑتا ہے جو بعد میں نشو و نما کے وقت مزید سراٹھا جائے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس نصیحت کو یاد رکھیں اور اس کو نو مبائعین کو بتا ئیں اور سمجھا ئیں۔یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو ایک دفعہ آپ کریں گے تو جیسا کہ مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے برکت پیدا ہوتی ہے۔پس بیعت کنندہ کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ دیکھو تم نے تو بہ کی ہے، کس کس چیز سے تو بہ کی ہے ہمیں نہ بتاؤ مگر خود تو سوچو، خود سمجھو اور احساس بیدار کے ساتھ جو بدیاں تھیں ان سے تو بہ کرو ورنہ بیعت کا کوئی معنی نہیں ورنہ بیعت کے اندر وہ بدیاں داخل ہو کر اسی طرح نشو و نما پاتی رہیں گی۔اگر ساتھ اس کے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی شرط لگالے تو ترقی ہوتی ہے مگر یہ مقدم رکھنا تمہارے اختیار میں نہیں“۔فرمایا تو بہ کے ساتھ ایک اور عہد بھی وہ کرے جو بیعت میں کرتا تو ہے لیکن باشعور طور پر یہ احساس زندہ رکھتے ہوئے کہ میں نے آئندہ دینی کاموں کو دنیاوی کاموں پر ترجیح دینی ہے۔یہ ایسی باتیں ہیں جو اس وقت گہرے طور پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ہر بیعت کنندہ کی پرورش ان باتوں کے ساتھ اگر چلے تو ایک عہد بیعت کے دوران ہی اس کو ساری زندگی کا ذخیرہ مل جائے گا ساری زندگی کا زاد راہ ہاتھ آ جائے گا۔پس آغاز کیسا ہو یہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام توجہ دلا رہے ہیں۔اس رنگ میں بیعتیں کرنی چاہئیں اس رنگ میں بیعتیں کروانی چاہئیں کہ ہر شخص کو یہ چیزیں نئی محسوس ہوں محض الفاظ نہ دہرائے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا بلکہ اس کے ذہن نشین کرو کہ دیکھو تم نے کچھ بدلنا ہے پہلے تم دنیا کو دین پر مقدم رکھا کرتے تھے اب تمہیں دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرما رہے ہیں یہ تمہارے بس کی بات نہیں اور یہ بات ساری جماعت پر اطلاق پارہی ہے ہم میں سے کسی کے بس کی بات نہیں۔دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا ایک بہت بڑا عہد ہے جو ہم کرتے ہیں مگر اکثر صورتوں میں جب حالات تقاضا کریں کہ اب دین کو دنیا پر مقدم کر کے دکھاؤ تو اکثر ہم میں سے ناکام رہتے ہیں۔پس اس بیماری کی جڑھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دکھا دی ہے کہ اس کا علاج ہونا ضروری ہے اگر نہیں کرو گے تو یہ تو یہ بھی بے کار اور یہ تخم ریزی بھی بے فائدہ۔فرماتے ہیں: تمہارے اختیار میں نہیں بلکہ امداد الہی کی سخت ضرورت ہے۔