خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 57
خطبات طاہر جلد 16 57 خطبہ جمعہ 24 /جنوری 1997ء پھرے، کیوں اس کی تکلیفیں برداشت کیں ، کیوں اس کو پال پوس کر پیار سے جو چیزیں اپنے اوپر خرچ کر سکتے تھے اپنی ذات کی قربانی کی ان پر خرچ کیں، بچپن سے کتنے نخرے برداشت کئے۔یہ بات ثابت کرتی ہے کہ اپنی خاطر نہیں کیا، تمہاری خاطر ہی کیا ہے اور احسان جو ہے وہ ان دونوں صورتوں بس بے مثل ہے کسی اور رشتے میں وہ احسان دکھائی نہیں دیتا جو خدا کے احسان سے مشابہ ہو جو ماں باپ اور بچے کے رشتے میں دکھائی دیتا ہے۔پس یہ وہ مضمون ہے اگر آپ غور کریں اس پر تو بڑے عظیم مطالب اس سے نکلتے ہیں۔بنیادی طور پر احسان فراموشی کو سب سے بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔بنیادی طور پر احسان نا فراموشی کی تاکید فرمائی گئی یا احسان فراموشی کو حرام کر دیا، ایک ہی بات ہے۔احسان فراموشی کو حرام کر دیا یہ بیان کرنا چاہتا ہوں میں۔پس ان دونوں باتوں کا اس عبارت سے تعلق ہے جو میں نے پچھلی مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے الفاظ میں آپ کو پیش کی تھی اور دراصل وہ ایک حدیث کے مضمون سے متعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” حدیث شریف میں آیا ہے کہ دو آدمی بڑے بدقسمت ہیں ایک وہ جس نے رمضان پایا، پھر رمضان گزر گیا اور اس کے گناہ بخشے نہ گئے اور دوسرا وہ جس نے والدین کو پایا اور والدین گزر گئے اور اس کے گناہ بخشے نہ گئے“۔(ملفوظات جلد 4 صفحہ: 289) تو ان دونوں میں قدر مشترک وہی ہے جو میں نے اس آیت کے حوالے سے بیان کی ہے کہ احسان کو پیش نظر رکھتے ہوئے انسان جو کچھ بھی اپنے محبت اور خلوص کا اظہار کرتا ہے اس کو احسان کے بدلے احسان کے مشابہ تو قرار دیا جا سکتا ہے مگر احسان کے بدلے وہ احسان چکایا نہیں جاسکتا۔پس اس آیت کریمہ میں جس طرح میں ترجمہ کر رہا ہوں وہاں اِحْسَانًا کا مطلب ہوگا اللہ اور ماں باپ کے احسان کو پیش نظر رکھتے ہوئے، جو احسان تم پر ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کام کرو تم پر حرام کر دیا گیا ہے کہ اس احسان کو بھلا دو۔اور دوسرا معنی یہ ہوگا کہ تم احسان کا بدلہ احسان سے دو۔ماں باپ کے احسان کا بدلہ احسان سے دینا۔یہ مضمون تو کسی حد تک سمجھ میں آجاتا ہے مگر اللہ کا بدلہ احسان سے کیسے دو۔یہ مضمون حضرت اقدس محمد مصطفی علی اللہ نے ہمیں سمجھا دیا اور یوں سمجھایا کہ نماز میں اس طرح نمازیں ادا کرو، اس طرح حضور اختیار کر و خدا کے سامنے کہ گویا وہ تمہیں سامنے کھڑا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور اگر یہ نہیں کر سکتے تو اتنا ہی خیال رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔یہ جو احسان ہے یہ کامل