خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 56
خطبات طاہر جلد 16 56 خطبہ جمعہ 24 /جنوری 1997ء ہرگز کسی قیمت پر کسی قسم کا کوئی شریک خدا کا نہیں ٹھہراؤ گے۔وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا اور والدین پر احسان۔اس سے پہلے اس آیت پر ایک خطبہ کے دوران میں نے اس مضمون کو کھولا تھا کہ بظاہر تو یوں لگتا ہے جیسے احسان بھی حرام کر دیا گیا ہے اور نیا ایک فعل بیچ میں نہیں آیا اور یہ حکم دیا کہ تم احسان کرو۔تو اس کے مختلف پہلو ہیں جن کے اوپر علماء بحث کر چکے ہیں۔اکثر وہ اس حکم کو حذف مانتے ہیں اور کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ شرک حرام اور والدین کی اطاعت اور ان کی فرمانبرداری، ان سے حسن سلوک ، احسان یہاں مفعول یہ بن جائے گا، ان سے احسان کرنا فرض ہو گیا ہے لیکن ایک اور پہلو سے اگر احسان کے لفظ کو وسیع معنوں میں دیکھا جائے تو اس کا اطلاق اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی ہوتا ہے اور آنحضرت ﷺ نے ہمیں نمازوں میں احسان کرنے کی خصوصیت کے ساتھ تاکید فرمائی۔پس والدین سے احسان اور معنوں میں ہوگا اور خدا تعالیٰ سے احسان اور معنوں میں اور دونوں کا اصل بنیادی تعلق احسان ہی سے ہے۔یعنی ایک احسان کے بدلے احسان کی کوشش کرنا۔تو اس طرح اگر اس آیت کو بعینہ ظاہری لفظوں میں دیکھا جائے تو یہ مطلب بنے گا۔قُلْ تَعَالَوْا اتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ تم پر حرام کر دیا ہے اللہ نے کہ خدا کا شریک ٹھہراؤ یا دنیاوی تعلقات میں والدین کا شریک ٹھہراؤ کیوں کرو ایسا اِحْسَانًا۔احسان کے پیش نظر کیونکہ اللہ کا بھی ایک ایسا احسان ہے تم پر جس میں کوئی کائنات میں اور شریک نہیں ہے بلکہ ساری کائنات اس کے احسان کا ایک مظہر ہے۔تم پر احسان کیا تو کائنات وجود میں آئی تم پر احسان کرنا مقصود تھا تو کائنات کو پیدا کیا گیا۔تو اتنے بڑے احسان کے بدلے اگر تم اس کے شریک ٹھہرانے لگو تو اس سے زیادہ بے حیائی اور ناشکری اور ممکن ہی نہیں ہے اور تمہیں وجود کی خلعت بخشی ماں باپ نے۔ماں باپ نہ ہوں تو تمہاری دنیا وجود میں نہ آئے۔تو یہ دونوں اقدار مشترک ہیں، مشتر کہ اقدار ہیں۔خدا تعالیٰ کی تخلیق میں اور ماں باپ کے اپنے بچوں کو پیدا کرنے میں یہ دونوں قدرمشترک ہیں اور جو احسان فراموش ہیں وہ تو یہ بھی کہہ دیتے ہیں ہم نے کب خدا سے کہا تھا کہ ہمیں پیدا کرو اور ماں باپ کے متعلق بھی کہتے ہیں اپنی خاطر کیا ہے ہم پر مفت کا احسان ، ہم نے کب کہا تھا پیدا کرو۔اگر اپنی خاطر پیدا کیا تھا جو کچھ بھی کیا تو اس لوتھڑے کو سینے سے لگائے کیوں