خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 623
خطبات طاہر جلد 16 623 خطبه جمعه 22 راگست 1997 ء ہے تو اس کو اس کے باوجود بھی خطرہ ہے کیونکہ شیطان کی نظر ہے مومن کے پھلوں پر ، مومن کے لگائے ہوئے پودوں پر اور وہ ضرور انہیں خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔چنانچہ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ وہ شیطان جن کا پیشہ ہی جماعت احمدیہ کے لگائے ہوئے بیجوں کو خراب کرنا ہے مسلسل اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ ایسا ہو اور اس کے لئے منصوبے بناتے ہیں، اس کے لئے لٹریچر تیار ہوتا ہے، اس کے لئے غیر ملکوں سے ان کو مالی امداد ملتی ہے اور آپ سمجھ رہے ہیں کہ خاموشی سے کام ہورہا ہے حالانکہ دشمن آپ پر نظر رکھے ہوئے ہے، آپ کی ہر حرکت پر۔اسے اسلام کی کسی اور کامیابی کی فکر نہیں ، اسلام کے دنیا میں پنپنے کی اس کو فکر نہیں ، اس کو نیکی کے پہنچنے کی کوئی فکر نہیں ، اس کو فکر ہے تو یہ ہے کہ نیکی کیوں پنپ رہی ہے۔نیکی کو پنپنے میں مدد دینے کی کوئی فکر نہیں مگر جہاں بھی نیکی پینے گی وہاں شیطان نے ضرور اثر دکھانا ہے اور ازل سے ایسا ہی چلا آ رہا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک ایسی حقیقت کی طرف آپ کی توجہ مبذول فرما رہے ہیں جو ابتدائے آفرینش سے، آدم کے زمانے سے اسی طرح چلی آئی ہے۔جب بھی زمین میں نیکی کا بیج بویا جائے گا شیطان نے ضرور حرکت کرنی ہے اور اس کو ثمرات سے محروم کرنے کے لئے یا جڑوں سے اکھیڑ پھینکنے کے لئے جو کچھ اس کی پیش جاسکتی ہے وہ ضرور ایسا کرے گا۔66 ہے۔یا د رکھو بیعت کے وقت تو بہ کے اقرار میں ایک برکت پیدا ہوتی بیعت کے وقت تو بہ کے اقرار میں ایک برکت ہوتی ہے عموماً الفاظ میں تو تو بہ ہے مگر بیعت کنندہ کو یہ احساس دلا نا کہ تم تو بہ کا جو اقرار کرو گے اس میں ایک برکت ہوگی اس لئے اس اقرار کو دل و جان سے کرو اور تفصیل سے کرو۔اپنے دل پر، اپنی سابقہ زندگی پر نظر ڈالتے ہوئے خیال کرو کہ تم کیا کر رہے ہو اگر اس طرح تم تو بہ کرو گے تو اس تو بہ میں برکت ہوگی۔پس یہ ایسی تو بہ ہے جیسے بیج لگانے سے یا گٹھلی لگانے سے پہلے زمیندار اس کو دواؤں میں ڈالتا ہے اور ہر طرح سے دیکھ لیتا ہے کہ کوئی گندہ اثر پرانی حالت کا اس میں نہ پایا جائے مثلاً بعض گٹھلیوں کے ساتھ کچھ فنکس (Fungus) لگی ہوئی ہوتی ہے۔بعض بیجوں کے ساتھ کچھ بیماریاں لگی ہوتی ہیں۔پس بیجوں کی تلاش کے بعد جو بیج میسر آئیں ان پر بھی محنت کرنی پڑتی ہے اور ان کو ہر