خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 622
خطبات طاہر جلد 16 622 خطبہ جمعہ 22 اگست 1997ء کلمات کہنا چاہتا ہوں یہ بیعت تخم ریزی ہے اعمال صالحہ کی۔ بیعت کے نتیجے میں ایک بیج بویا گیا ہے اور پیچ کس چیز کا بویا گیا ہے اعمال صالحہ کا۔ پس ہر بیعت ایک بیج کی طرح ہے جو زمین میں گاڑی گئی ہے اور اس سے اعمال صالحہ کا درخت پھوٹنا چاہئے ۔ یہ بہت ہی لطیف تشریح ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے اور حیرت ہوتی ہے یہ دیکھ کر ، یوں لگتا ہے جیسے اس دور کی بیعتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپ نے ایک بہت ہی اعلیٰ ، عمدہ اور مرکزی نصیحت فرمادی ہے۔ وو یہ بیعت تخم ریزی ہے اعمال صالحہ کی جس طرح کوئی باغبان درخت لگاتا ہے یا کسی چیز کا بیج ہوتا ہے پھر اگر کوئی شخص بیج بو کر یا درخت لگا کر و ہیں اس کو ختم کر دے اور آئندہ آب پاشی اور حفاظت نہ کرے تو تخم بھی ضائع ہو جاوے گا۔ یعنی تخم ریزی کے نتیجے میں مزیدا گنا تو در کنار وہ تخم جو مٹی میں گاڑا گیا وہ بھی ضائع ہو جائے گا یعنی کچھ بھی آپ کے ہاتھ نقصان کے سوا نہیں آئے گا۔ پس اصل کام بیعتوں کے بعد شروع ہوتا ہے۔ پہلے بھی کام اصلی ہے یعنی اچھے بیج کی تلاش بہت بڑا کام ہے لیکن دو دور ہیں جو بیج آپ نے پکڑا اور چنا وہ دنیا کی نمائندگی کر رہا تھا اس کو اپنے اختیار میں لے لیا اور اسے اعمال صالحہ کا درخت لگانے میں استعمال کرنا ہے یہ ہے اصل کام ۔ فرماتے ہیں: اسی طرح انسان کے ساتھ شیطان لگا رہتا ہے۔ پس اگر انسان نیک عمل کر کے اس کے محفوظ رکھنے کی کوشش نہ کرے تو وہ عمل ضائع ہو جاتا ہے۔ یہ دوسری نصیحت اس میں یہ فرمائی گئی ہے کہ اتفاقاً بھی نہیں بعض دفعہ بیج لگا کر آپ بھول جائیں تو وہ پہنچ ہی جاتا ہے۔ کئی دفعہ غلطی سے زمیندار چھٹا مارتا ہے تو کھیتوں کے کناروں پر یا کچھ باہر بیج لگتے ہیں اور اُگ بھی آتے ہیں اور پل بھی جاتے ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام دوسری بات یہ بیان فرمارہے ہیں کہ شیطان لگا رہتا ہے یعنی مومن جب بیج لگاتا ہے اور اس کی آب پاشی کرتا