خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 611
خطبات طاہر جلد 16 611 خطبہ جمعہ 15 راگست 1997 ء ہے جو اپنی ذات میں بولنے والا نشان ہے۔اگر مرد صادق پیدا ہو جائے تو اسے دیکھ کر کسی اور نشان کی ضرورت نہیں رہتی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام جماعت احمدیہ کو اس دعا کی طرف متوجہ فرماتے ہیں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہ ہمیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرما سیدھا راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے انعام فرمایا: ”خدا سے ہم اپنی ترقی ایمان اور بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے چار قسم کے نشان چار کمال کے رنگ میں چاہتے ہیں۔نبیوں کا کمال صدیقوں کا کمال، شہیدوں کا کمال صلحاء کا کمال۔سو نبی کا خاص کمال یہ ہے کہ خدا سے ایسا علم غیب پاوے جو بطور نشان کے ہو“۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا سے بالعموم جو دعائیں کیں ان کے نتیجے میں نبی کا کمال تو آپ کو عطا ہو گیا اور اس کمال کے پیچھے پیچھے ہمارا قافلہ چل رہا ہے۔ہمارے لئے جو تین کمال باقی ہیں جنہیں ہمیں اپنانا ہے اور ہر احمدی کو اس کا نمونہ بننا ہے وہ کمالات یہ ہیں: صدیق کا کمال یہ ہے کہ صدق کے خزانہ پر ایسے کامل طور پر قبضہ کرے یعنی ایسے اکمل طور پر کتاب اللہ کی سچائیاں اس کو معلوم ہو جائیں کہ وہ بوجہ خارق عادت ہونے کے نشان کی صورت پر ہوں اور اس صدیق کے صدق پر گواہی دیں۔یعنی تمام جماعت احمدیہ کواگر صدیق کا نشان دکھانا ہے تو ان کے لئے لازم ہے کہ قرآن کریم میں جو صد یقیت کے نشانات بیان فرمائے گئے ہیں وہ تمام نشانات اپنی ذات میں پورے کر کے دکھائیں اور جماعت احمدیہ میں کثرت سے صدیق پیدا ہونے لگیں یہ ایک ایسا نشان ہے جو حیرت انگیز طور پر اسلام کا مقصود ہے۔اسلام کا تو مقصد ہی ان نشانات کی طرف لے کے جانا ہے اور یہی وہ نشان ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی جماعت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔اگر یہ نشان آج ہماری جماعت میں ظاہر ہو جائیں تو اس کے سوا اور کسی غلبے کے مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔یہی نشانات کا غلبہ ہے جو جماعت احمدیہ کو تمام دنیا پر غالب کرے گا اور ایسے رنگ میں غالب کرے گا کہ اس غلبے کی