خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 610
خطبات طاہر جلد 16 610 خطبہ جمعہ 15 اگست 1997 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو تین سال کے عرصہ میں ایک نشان مانگ رہے ہیں جلسہ سالانہ کی تقریر میں غالبا میں نے بھی آئندہ دو تین سال کی بات کی تھی۔مجھے یہ یاد پڑتا تھا کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کہیں تین سال کی بات بھی کی ہے مگر وہ تین سال کی بات مباہلے کے طور پر نہیں بلکہ احمدیت کی تائید میں ، اسکے حق میں عظمت کا نشان مانگنے کے لحاظ سے کی تھی اور اس تحریر سے وہ بات کھل گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں کہ میں جو امن اور صداقت کا نشان مانگ رہا ہوں یہ عبادات میں سے ہے۔یہ نشان ایک ایسی دعا سے تعلق رکھتا ہے جو سورۃ فاتحہ کی جان ہے اور یہ نشان ایسا ہے جو میری ساری جماعت کے ہر فرد میں ظاہر ہوگا اور اس غرض کے لئے آپ نے تین سال مانگے ہیں ایک امن کے نشان کے طور پر۔آپ لوگ حیران ہوں گے کہ یہ کس قسم کا امن کا نشان ہے جو جماعت احمدیہ کے ہر فرد میں ظاہر ہونے والا ہے اور اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تین سال اس لئے مانگے ہیں کہ اس کے لئے بہت محنت اور مشقت کی ضرورت ہے، بہت دعاؤں کی ضرورت ہے، گریہ وزاری - خدا تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے پاک تبدیلیاں چاہنے کی ضرورت ہے اور یہ دراصل وہ نشان ہے جس کی طرف مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کے ذہنوں اور دلوں کو منتقل فرمارہے ہیں۔فرماتے ہیں: ” میری یہ دعا بدعت نہیں ہے بلکہ ایسی دعا کرنا اسلام کی عبادات میں سے ہے جو نمازوں میں ہمیشہ پنچ وقت مانگی جاتی ہے کیونکہ ہم نماز میں یہ دعا کرتے ہیں کہ اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ۔اس سے یہی مطلب ہے کہ خدا سے ہم اپنی ترقی ایمان اور بنی نوع کی بھلائی کے لئے چار قسم کے نشان چار کمال کے رنگ میں چاہتے ہیں۔اب آپ یہ سمجھ رہے تھے کہ آسمان سے کوئی جلوہ ظاہر ہو عجیب طرح کا اور آپ نیچے بیٹھے اس کا تماشہ دیکھ رہے ہوں یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عبارت کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں ایسا خیال پیدا ہوتا ہے۔حضور علیہ السلام جو نشان مانگ رہے ہیں وہ جماعت احمدیہ کے اندر ایک حیرت انگیز پاک تبدیلی کا نشان ہے۔ایک ایسا نشان ہے جو ہمیشہ ہمیش کے لئے چمکتا رہے گا۔یہ ایک ایسانشان