خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 608 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 608

خطبات طاہر جلد 16 608 خطبہ جمعہ 15 راگست 1997 ء دعائیں کرنا کہ اے اللہ دشمن کو تباہ و برباد کر دے، احمدیت کو ترقی ہو یہ کوئی دعا نہیں۔دعا وہ ہوتی ہے جو دل سے نکلے اور صبر کی کوکھ سے پھوٹے۔صبر اور دعا کا گہرا تعلق ہے، صبر ہی دل میں وہ غم پیدا کرتا ہے ، وہ بے انتہاء درد دل میں ابھارتا ہے جیسے ایک طوفان برپا ہو جائے اور اس طوفان سے جو آہیں اٹھتی ہیں اس سے جو دردناک دعائیں اٹھتی ہیں یہ وہی دعائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہوا کرتی ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو آپ کو صبر کی تلقین کرتے ہیں تو ہرگز یہ مراد نہیں کہ آپ کو بے یار و مددگار چھوڑ رہے ہوں کہ صبر کرتے رہو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔حقیقت میں یہ مضمون اس لئے سمجھایا جا رہا ہے تا کہ آپ کو دعاؤں کی توفیق ملے اور دعائیں بھی ویسی ہوں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا کے حضور عرض کیں۔فرماتے ہیں ربّ انّی مغلوب مگر بغیر فانتصر کئے۔یہ معاملہ سمجھنے والا ہے حضرت نوح نے یہ دعا کی تھی فَدَعَارَبَّةَ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ (القمر: 11) اے میرے خدا میں مغلوب ہو چکا ہوں پس تو میری مدد فرما اور میرا بدلہ لے۔انتصار میں بدلہ لینے کا مضمون پایا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قوم کی ہلاکت اور تباہی میں اس قسم کی دلچسپی نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جانتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی قوم ہی میں سے وہ لوگ پیدا ہوں گے جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غلامی میں فخر محسوس کریں گے اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تعلق سے وہ صحابہ سے ملائے جائیں گے۔یہ یقین کامل اگر مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں نہ ہوتا تو آپ کی دعافانتصر تک جا پہنچتی۔آپ فرماتے ہیں: یا درکھو میری دعا اتنی ہے رب انّی مغلوب اے میرے رب میں مغلوب ہو چکا ہوں۔فانتصر نہیں کہنا۔یہ نہیں کہنا کہ تو اس قوم سے میرا بدلہ لے۔”اور میری روح دیکھ رہی ہے کہ خدا میری سنے گا اور میرے لئے ضرور کوئی ایسا رحمت اور امن کا نشان ظاہر کر دے گا کہ جو میری سچائی پر گواہ ہو جائے گا۔میں اس وقت کسی دوسرے کو مقابلے کے لئے نہیں بلاتا اور نہ کسی شخص کے ظلم اور جور کا جناب الہی میں اپیل کرتا ہوں بلکہ جیسا کہ میں تمام ان لوگوں کے لئے بھیجا گیا ہوں جو زمین پر رہتے ہیں خواہ وہ ایشیا کے رہنے والے ہیں اور خواہ یورپ کے اور خواہ امریکہ کے ایسا ہی میں عام اغراض کی بناء پر بغیر اس کے صلى