خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 607 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 607

خطبات طاہر جلد 16 607 خطبہ جمعہ 15 اگست 1997 ء پہلے خدا کے پاک نبیوں کی نسبت یہی لفظ بولے گئے ہیں۔سوضرور تھا کہ خدا کی وہ تمام سنتیں اور عادتیں جو نبیوں کی نسبت وقوع میں آچکی ہیں ہم میں پوری ہوں“۔ان تمام اعتراضات کا انبیاء کی ذات میں اکٹھے ہو جانا یہ دراصل انبیاء کی صداقت کا نشان ہیں۔نبیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں سے یہ سلوک نہیں ہوا۔ساری تاریخ اسلام کا آپ مطالعہ کر لیں وہ تمام اعتراضات جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ علیہ پر لگائے گئے وہ صرف مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات میں اکٹھے کئے گئے ہیں اور کسی عالم کسی بڑے چھوٹے کسی مذہبی راہنما، کسی فرقے کے راہنما پر وہ سارے اعتراضات اس طرح اکٹھے وارد نہیں کئے گئے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پر رسول اللہ ﷺ کا حوالہ دیئے بغیر دہرائے گئے۔مگر جو حکمت عملی میں نے آپ کو بتائی ہے جو طر ز جہاد سمبھائی ہے اس کے مطابق دشمن کا مقابلہ کرنا ہے مگر یا درکھیں کہ حضرت صلى الله مسیح موعود علیہ السلام کو آگے رکھنا ہے پیچھے نہیں رکھنا۔رسول اللہ علیہ کے دفاع کے لئے آپ کا سینہ ہے اور آپ کے دفاع کے لئے ہمارا سینہ ہے۔دشمن چاہے تو لاکھ ہمیں چھلنی کرے ہمیں کوڑی کی بھی پرواہ نہیں مگر ہم اپنے آقا ومولا کے سینوں کو ان تیروں سے ضرور بچائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔فرماتے ہیں: الله یہ ہمارا حق ہے کہ جو خدا نے ہمیں عطا کیا ہے جب کہ ہم دیکھ دئے جائیں اور ستائے جائیں اور ہمارا صدق لوگوں پر مشتبہ ہو جائے اور ہماری راہ کے آگے صدہا اعتراضات کے پتھر پڑ جائیں تو ہم اپنے خدا کے آگے روئیں اور اس کی جناب میں تضرعات کریں اور اس کے نام کی زمین پر تقدیس چاہیں اور اس سے کوئی ایسا نشان مانگیں جس کی طرف حق پسندوں کی گردنیں جھک جائیں۔سو اسی بنا پر میں نے یہ دعا کی ہے۔مجھے بارہا خدا تعالیٰ مخاطب کر کے فرما چکا ہے کہ جب تو دعا کرے تو میں تیری سنوں گا سو میں نوح نبی کی طرح دونوں ہاتھ پھیلاتا ہوں اور کہتا ہوں ربّ انّی مغلوب مگر بغیر فانتصر کے“۔یہ صبر دعا میں ڈھلا کرتا ہے اور جتنا آپ عفو سے کام لیں گے اتنا ہی دعاؤں کی طرف توجہ ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے تعلق سے یہ بات آپ کو سمجھا رہے ہیں۔محض