خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 606
خطبات طاہر جلد 16 606 خطبہ جمعہ 15 اگست 1997ء ہے اور ہم اس کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اگر کوئی غیر احمدی سمجھتا ہے کہ اعتراض جھوٹا اور لغو نہیں تو پھر بے شک وہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ویسا اعتراض کرے۔ ہم اس اعتراض کا جواب بھی اسے دیں گے اور آنحضرت می پر ویسے ہی اعتراضات کو بھی لغو اور جھوٹا ثابت ک ثابت کریں گے۔ پس اس غرض سے نہیں کہ آپ نعوذ باللہ من ذالک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں صلى کے دفاع کے لئے حضرت رسول اللہ ﷺ کو آگے کریں۔ یہ ایک اہم بات ہے جس کی پہلے بھی نے وضاحت کی تھی اور اب پھر کر رہا ہوں کہ میرا منشاء ہرگز یہ نہیں کہ آنحضرت ا ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دفاع میں آگے بڑھیں بلکہ میرا منشاء تو صرف یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ پر جو اعتراضات کئے گئے ان اعتراضات کا جواب بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر گزرنے والے حالات کے ذریعہ دیا جائے اور ثابت کیا جائے کہ ان سب اعتراضات کا وہی جواب درست ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اپنے آقا کے دفاع میں پیش کیا ہے۔ پس یہ وہ حکمت عملی ہے اور یہ جہاد کی وہ پالیسی ہے جسے آپ کو اپنانا ہے۔ بعض دفعہ احمدی نوجوان اپنی غفلت کی وجہ سے، لاعلمی کی وجہ سے کسی غیر احمدی کے اعتراض کے مقابل پر فوراً رسول اللہ ﷺ کا حوالہ دے دیتے ہیں اور یہ طریق نامناسب اور ناجائز ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کبھی اس طریق کو اختیار نہیں فرمایا۔ آپ نے اپنے اوپر وارد ہونے والے اعتراضات کا جواب دیا ہے اگر وہ جواب کسی کو تسلیم نہیں تو پھر ویسا ہی اعتراض آنحضرت مال پر بھی کیا گیا۔ گویا کہ مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے سینے کو آپ ایک طرف کر دیں گے اور سیدھا اعتراض کا نشانہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو بنائیں گے۔ اس بناء پر غلام کو اس کی غلامانہ حیثیت میں ہی آقا کے سامنے رہنا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا سینہ اسی طرح مقابل پر تنا رہے گا جس طرح ہمیشہ تنا رہا ہے۔ سب سے بڑھ کر حضرت رسا بڑھ کر حضرت رسول اللہ ﷺ کی غیرت آپ نے دکھائی ہے پس اس پہلوکو کبھی ہاتھ سے صلى الله التعليسة نہ جانے دیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: غرض مخالفوں کا کوئی بھی میرے پر ایسا اعتراض نہیں جو مجھ سے پہلے خدا کے پاک نبیوں پر نہیں کیا گیا۔ اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں کہ جب تم ایسی گالیاں اور ایسے اعتراض سنو تو غمگین اور دلگیر مت ہو کیونکہ تم سے اور مجھ سے