خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 601
خطبات طاہر جلد 16 601 خطبہ جمعہ 15 راگست 1997 ء بھی ایسی ہی درندگی ظاہر کریں جیسا کہ ان کے مقابل پر کی جاتی ہے تو پھر ان میں اور دوسروں میں کیا فرق ہے۔اس لئے میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ ہرگز اپنا اجر پا نہیں سکتے جب تک صبر اور تقویٰ اور عفو اور درگزر کی خصلت سب سے زیادہ ان میں نہ پائی جائے“۔( تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 513) یہ اقتباس میں نے خصوصیت سے جماعت جرمنی میں اس خطبہ میں پڑھنے کے لئے چنا تھا۔وجہ یہ ہے کہ آج کل جماعت احمد یہ جرمنی خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کر رہی ہے اور بہت سی جگہ اب جماعت کے دشمن اقلیت بن گئے ہیں اور یہ خیال کہ اب ہم طاقتور ہو گئے ہیں اس لئے اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں اور خلاف بولنے والوں کے منہ توڑیں یہ خیال جہالت کے نتیجے میں از خود پیدا ہوتا ہے یا طبعی جوشوں کے نتیجے میں نوجوانوں میں ایک رد عمل پایا جاتا ہے۔بہادر وہ ہے جو طاقت رکھتے ہوئے اصولوں کو نہ چھوڑے، جو طاقت رکھتے ہوئے انکسار سے کام لے اور درگزر اور عفو سے کام لے۔یہ وہ ضرورت تھی جس کی وجہ سے آج میں آپ کے سامنے یہ اشتہار پڑھ کے سنارہا ہوں۔آپ کو ایک قسم کا غلبہ نصیب ہے۔آپ کے مقابل پر جو جلسے کئے جارہے ہیں ان کی کوئی بھی حیثیت نہیں۔چند سو کے سوا اور لوگ وہاں اکٹھے نہیں ہوتے اور محض گالی گلوچ اور بکواس کے بعد رخصت ہو جاتے ہیں۔مگر آپ جو کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک ظاہری عدد کی صورت میں بھی عظمت پارہے ہیں اور دن بدن یہ ظاہری عدد کی عظمت بڑھتی جائے گی۔مگر اگر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ان نصائح کو نظر انداز کر دیا اور ظاہری عدد کی برتری ہی کو اپنی عظمت سمجھا تو آپ کی ساری عظمتیں ذلتوں میں تبدیل ہو جائیں گی۔یہ وہ نصیحت ہے اور یہ انذار ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نصیحت کی صورت میں آپ کے سامنے رکھا ہے۔اگر وہ بھی ایسی ہی درندگی ظاہر کریں جیسا کہ ان کے مقابل پر کی جاتی ہے تو پھر ان میں اور دوسروں میں کیا فرق ہے۔اس لئے میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ ہرگز اپنا اجر پا نہیں سکتے جب تک صبر اور تقویٰ اور عفو اور درگزر کی خصلت سب سے زیادہ ان میں نہ پائی جائے“۔صبر اور تقویٰ اور عفو اور درگزریہ چار صفات ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے