خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 597
خطبات طاہر جلد 16 597 خطبه جمعه 8 راگست 1997 ء نہیں مانیں گے۔یہ دونوں معنی اس میں پائے جاتے ہیں چنانچہ حضرت نوح کی قوم نے اس عذاب کی حالت میں بھی حضرت نوح پر ایمان کا کوئی تصور بھی نہیں کیا، بیٹے نے بھی نہیں کیا۔عذاب نازل ہورہا ہے حضرت نوح آواز میں دے رہے ہیں بیٹے کو کہ آ میرے ساتھ کشتی میں سوار ہو جا۔عذاب کے نزول کے وقت بھی اس نے حضرت نوح کا انکار کیا۔پس ایسی حالت ہوتی ہے قوموں کی کہ حَتَّی يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ وہ دردناک عذاب کو دیکھ رہے ہوتے ہیں اس وقت تک ویسے ایمان نہیں لاتے جب عذاب نازل ہو رہا ہو اس وقت بھی ایمان نہیں لاتے۔فرعون نے کیا کیا تھا۔فرعون کی قوم کو کیوں آخر صفحہ ہستی سے مٹایا گیا اس لئے کہ عذاب الیم کے وقت بھی ان کے نفس بہانے ڈھونڈتے رہے اور ایمان لانے والے نہ بن سکے۔اگر وہ ایمان لے آتے تو ضرور یونس کی قوم کی طرح ان پر رحم کیا جاتا۔یہ تمام آیات سورۃ یونس سے لی جارہی ہیں اور سورۃ یونس میں اللہ تعالیٰ مختلف قوموں کی مثالیں دے رہا ہے کہ ان پر کیا کیا گزری۔کیا کیا ان کے ساتھ واقعات رونما ہوئے انہوں نے انبیاء کی کیسی کیسی مخالفتیں کیں لیکن بالآخر جب وہ عذاب کا نشانہ بنائے گئے تو عذاب بھی ان کی اصلاح نہیں کر سکا سوائے یونس کی قوم کے۔کیوں نہ وہ یونس کی قوم جیسے ہو گئے کہ کم سے کم عذاب کا منہ دیکھ کر ، یہ یقین کر کے کہ آنے والا ہے وہ دنیا کی زندگی میں اپنے بچاؤ کا کوئی سامان کر لیتے۔فرمایا وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ - نهایت دردناک حالت ہے اس وقت پاکستان کی اور مجھے اس آیت کا اطلاق ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔اس لئے میں بے چین ہوں اس لئے میں آپ سے دوبارہ دعاؤں کی درخواست کرتا ہوں۔اس ملک کو اب کوئی چیز بچا نہیں سکتی۔یہ تباہی کے گڑھے میں جا پڑا ہے۔کوئی نکلنے کی گنجائش نہیں۔ہر جگہ ذلت اور گمراہی اور سفا کی اور ظلم و ستم ہے۔ایسے لوگ جو خدا کی رحمانیت سے اپنا تعلق کاٹ لیں کوئی رحمانیت ان کو بچا نہیں سکتی لیکن دعاؤں میں اگر کوئی اثر ہے، کچھ نیک لوگ ایسے باقی ہیں جن کی خاطر تقدیر بدلی جا سکتی ہو اگر ان کے مقدر میں اس آخری گھڑی سے پہلے ایمان لانا ہو تو یہ دعائیں تو ہم کر سکتے ہیں اور میں آج ان دعاؤں کی طرف آپ کو متوجہ کرتا ہوں کہ اے خدا اگر تو کوئی بھی بھلائی دیکھے ہماری قوم میں، کہیں بھی وہ دکھائی دے اور تو بہتر جانتا ہے۔ہم اتنا جانتے ہیں کہ