خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 590
خطبات طاہر جلد 16 590 خطبہ جمعہ 8 اگست 1997 ء میں جماعت احمد یہ سوار ہے کیونکہ کشتی بنانے سے پہلے ہی یہ سوار ہو چکی تھی۔کشتی تو ایک ظاہری مثال تھی اگر حضرت نوح کی جماعت پہلے ہی کشتی میں سوار نہ ہوتی تو ان کے لئے کشتی کوئی بھی کام نہ دیتی۔پس ذرائع خدا بنائے گا اور جب خدا ذ رائع بناتا ہے تو پھر مطلع فرماتا ہے کہ اس طرح بناؤ۔چنانچہ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کو بچانے کا فیصلہ پہلے سے ہو چکا تھا۔حضرت نوح کے ساتھ جو لوگ امن میں آنے والے تھے ان کا فیصلہ پہلے سے ہو چکا تھا یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم حضرت نوح کے متعلق فرماتا ہے کہ خدا تعالی ساتھ ساتھ بتا رہا تھا کہ اس طرح کی کشتی بناؤ یہاں کیل ٹھونکو، یہاں یہ کام کرو وہاں وہ کام کرو۔باغيننا (هود:38) وہ کشتی خدا کی آنکھوں کے سامنے بنائی جارہی تھی اور اس کی ہر تفصیل میں دخل دے رہا تھا۔یہ معاملہ ہر شخص کے ساتھ ہمیشہ دہرایا نہیں جاتا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چونکہ کشتی والے ہیں آپ بھی نوح ہیں اس لئے آپ کی خلافت کے طور پر اسی خلافت کی ساکھ رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ مجھے بھی مطلع فرماتا رہتا ہے کہ یہ کام کرو اور وہ کام کرو۔فلاں کام سے قوم کو پیچھے ہٹالو، فلاں کام کے لئے قوم کو آگے بڑھا لو غرضیکہ جتنی بھی نصیحتیں میں آپ کو کرتا ہوں میں ایک ذرہ بھی شک نہیں رکھتا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ صیحتیں اترتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ظاہری الہام کی صورت میں اترتی ہوں۔اس طرح آنکھیں کھلتی ہیں اس طرح دماغ کروٹیں بدلتا ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ میرے نفس کی تو یہ سوچ نہیں تھی یہ محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے کشتی نوح بنانے کے طریقے ہیں کہ کس طرح بنائی جاتی ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس طرح مجھے ہدایت دیتا ہے وہی میں آپ کی طرف منتقل کر دیتا ہوں مگر اپنی طرف سے نہیں، یقین رکھیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نمائندگی میں۔وہ رحمتیں جو سو سال پہلے مسیح موعوڈ پر اتری تھیں وہ رحمتیں مسیح موعود کے نام کو دنیا پر پھیلا دینے کے لئے ، جب دنیا غرق ہو رہی ہو اس وقت آپ کی جماعت کو بچانے کے لئے اب پھر اتر رہی ہیں اور وجہ ہمارے آقا و مولا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں نہ میں ہوں نہ آپ ہیں۔پس ہرگز میرے اس قول کو کسی نفسی بڑائی کا غلط معنی نہ پہنائیں۔میرے نفس میں ایک ذرہ بھی بڑائی نہیں۔میں جانتا ہوں جو کچھ بھی خدا کی طرف سے آج مجھے سمجھایا جارہا ہے اور آپ کی خاطر بتلایا جارہا ہے وہ حقیقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی کی دعائیں اور آپ پر نازل ہونے والے فضل ہیں جو آنے والے وقت کے مطابق دوبارہ ایک نئی شکل میں ڈھالے جارہے ہیں۔