خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 589 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 589

خطبات طاہر جلد 16 589 خطبہ جمعہ 8 اگست 1997 ء حسد نے ضرور زور مارنا ہے۔یہ خیال دل سے نکال دیں کہ ترقی یافتہ ملکوں میں حسد پیدا نہیں ہوگا۔دنیا کے جتنے ترقی یافتہ ملک ہیں ان میں حسد اس لئے پیدا نہیں ہوتا کہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ، وہ آپ کو اس سے بھی زیادہ حقیر دیکھتے ہیں، ایک مچھر کے پر سے بھی زیادہ آپ کو حقیر دیکھتے ہیں۔تعریف کرتے ہیں تو یہ ان کی شرافت اور Civilized Values جن کو وہ کہتے ہیں یعنی تہذیب اور تمدن کے تقاضے ہیں۔وہ کمزور چھوٹے چھوٹے آدمی جو گرے پڑے ہیں بے چارے ان کی اچھی باتیں دیکھو تو ان کی تعریف کر دیا کرو لیکن یہی تعریف خطرناک غیظ وغضب میں تبدیل ہو سکتی ہے اگر یہ سمجھیں کہ یہ ہمارا مستقبل بن رہے ہیں وہ اٹھ کر اوپر آرہے ہیں یہ ہماری قوم کو اپنے رنگ میں تبدیل کرنے والے ہیں۔یہ بھی ایک ایسا واقعہ ہے کہ جس پر آیت حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ اطلاق پاتی ہے اور اگر چہ ابھی آپ کو نظر نہیں آ رہی مگر آئندہ نظر آجائے گی۔پس آج وقت ہے کہ اللہ کی پناہ میں آجائیں اور اللہ کی پناہ کی خاطر اس کشتی کی تعمیر شروع کریں جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے میں نے آپ کے سامنے کیا ہے۔جتنے میرے خطبات ہیں اب تک وہ اسی مضمون سے تعلق رکھتے ہیں کہ آپ خدا کے ہو جائیں اور خدا ہی کے ہو جائیں اسی پر توکل کریں اسی پر ہر امید ہو۔ہر فضل سمجھیں کہ اس کی طرف سے آیا ہے ہر فضل سمجھیں کہ اسی کی حفاظت میں رہے گا تو فضل رہے گاور نہ ضائع ہو جائے گا۔جیسے آسمان کا پانی اترتا ہے تو اسے سنبھالا جاتا ہے خدا کے فضل بھی آپ کے شکر کے کٹوروں میں سنبھالے جائیں گے۔یہ سارے اموراب کرنے والے ہیں اور وہ افریقہ جہاں یہ شرارت ابھی نہیں پہنچی اس افریقہ کو مخاطب کر کے میں کہتا ہوں کہ تم بھی اپنے آپ کواب تیار کرو اور بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فضل تمہیں سنبھال کر پھر مزید ترقیات عطا فرما تا چلا جائے یہاں تک کہ ہر حسد کی گود سے ایسے خدا کے فضل پھوٹیں جو مزید حسد کا مطالبہ کرتے ہوں اور یہ سلسلہ لامتناہی ہے ان لوگوں کے لئے جو شکر گزار بندے ہیں جو وقت کے اندر خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔چنانچہ حضرت نوح کے الفاظ میں ہم ان سب لوگوں کو مخاطب کر کے یہ کہتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے بس میں ہے کر گزرو۔اپنے پیادہ بھی چڑھالا ؤ، اپنے سوار بھی دوڑاؤ ہمیں ہر طرف سے گھیر نے کی کوشش کرو ہمارے سارے رستے بند کرو مگر یاد رکھو کہ تمہارا انجام نوح کی قوم کے انجام سے مختلف نہیں ہوگا۔خدا کے امن کی کشتی میں اگر کوئی جماعت سوار ہوگی تو جماعت احمد یہ سوار ہوگی اور خدا کے امن کی کشتی