خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 53
خطبات طاہر جلد 16 53 خطبہ جمعہ 17 /جنوری 1997ء تو پہلا مضمون یہ ہے کہ اللہ خالق ہے اس لئے اس کا شریک ٹھہرانے کا کسی کو کوئی حق نہیں ہے اور سب سے بڑا ظلم ہے کہ خدا جس نے سب کچھ بنایا ہو اس کو نظر انداز کر کے نعمتوں کے شکریے دوسروں کی طرف منسوب کر دئیے جائیں۔پھر اس تخلیق کا اعادہ ماں باپ کے ذریعے ہوتا ہے اور پھر ماں باپ کے ساتھ آپ کا وجود بنتا ہے۔اگر ایک تخلیق کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپ احسان کا سلوک کریں گے تو یہ جو عظیم خالق ہے لازماً اس کے لئے بھی دل میں امتنان اور احسان کے جذبات زیادہ زور کے ساتھ پیدا ہوں گے اور پرورش پائیں گے، پس یہ دو مضمون جڑے ہوئے ہیں۔جو ماں باپ کے احسان کا خیال نہیں کرتا اور جوابا ان سے احسان کا سلوک نہیں کرتا اس سے یہ توقع کر لینا کہ وہ اللہ کے احسانات کا خیال کرے گا، یہ بالکل دور کی کوڑی ہے۔پس ماں باپ کا ایک تخلیقی تعلق ہے جسے اس مضمون میں ظاہر فرمایا گیا ہے اور رمضان مبارک میں اللہ تعالیٰ نے رمضان کا مقصد خدا تعالیٰ کو پانا قرار دے دیا ہے اور خدا تعالیٰ کو حاصل کرنا بنیادی مقصد بیان فرمایا ہے۔پس اس تعلق سے حضرت محمد رسول اللہ علہ جوسب سے زیادہ قرآن کا عرفان پلائے گئے آپ نے یہ مضمون ہمارے سامنے اکٹھا پیش کیا کہ رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھاتے وقت ہر قسم کے محسنوں کا احسان اتارنے کی کوشش کرو۔ماں باپ کا احسان تو تم اتار سکتے ہو ان معنوں میں کہ تم مسلسل ان سے احسان کا سلوک کرتے رہو، عمر بھر کرتے رہو۔اگر احسان نہ بھی اترے تو کم سے کم تم ظالم اور بے حیا نہیں کہلاؤ گے۔تمہارے اندر کچھ نہ کچھ طمانیت پیدا ہوگی کہ ہم نے اتنے بڑے محسن اور محسنہ کی کچھ خدمت کر کے تو اپنی طرف سے کوشش کر لی ہے کہ جس حد تک ممکن تھا ہم احسان کا بدلہ اتاریں۔اللہ تعالیٰ کے احسان کا بدلہ نہیں اتارا جا سکتا اور ایک ہی طریق ہے کہ ہر چیز میں اپنی عبادت کو اس کے لئے خالص کر لو، اس کا کوئی شریک نہ ٹھہراؤ۔اب یہ جو مضمون ہے کوئی شریک نہ ٹھہراؤ اس کو انشاء اللہ میں آئندہ خطبے میں آپ کے سامنے بیان کروں گا اور اس حدیث کے حوالے سے باقی مضمون انشاء اللہ اگلے خطبہ میں آپ کے سامنے کھولوں گا۔تو اس طرح میں چاہتا ہوں کہ رمضان کے مہینے خطبوں میں رمضان کے فلسفہ، اس کی روز مرہ کی افادیت اور اس کے تقاضے پورے کرنے کے طریق آپ کو سمجھانے کی کوشش کروں۔اللہ تعالیٰ تو فیق عطا فرمائے۔آمین