خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 582 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 582

خطبات طاہر جلد 16 582 خطبہ جمعہ 8 اگست 1997 ء ، معنی بھی رکھتا ہے۔پس ان معنوں سے اس کا مطلب یہ بنے گا تم اپنی ساری طاقتیں اکٹھی کرلو وَشُرَكَاءَ كُمْ اور اپنے شریکوں کو بھی بلا لو ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمُرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً یہاں تک کہ تم پر تمہاری کوئی بات بھی مشتبہ نہ رہے۔یہ وہم نہ رہے کہ وہ طاقت بھی ہمارے پاس تھی وہ طاقت بھی ہمارے پاس تھی وہ بھی ہمارا شریک تھا وہ ہماری مدد کے لئے آسکتا تھا وہ بھی آسکتا تھا ، سب کو بلالو یہاں تک کہ کوئی دور کا امکان بھی باقی نہ رہے کہ تم کچھ کر سکتے تھے جو نہ کر سکے ہو۔یہ سب کچھ كروتمَّ اقْضُوا إِلَى وَلَا تُنظرُونِ پھر جو کچھ تم نے مجھے پر نافذ کرنا ہے یا جو کچھ تم نے کر گزرنا ہے کر گز رو اور مجھے مہلت نہ دو۔یہ حضرت نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مخاطب کر کے فرمایا۔یہ اعلان کر دے اب ایسا وقت آ گیا ہے کہ جب تقدیر الہی فیصلہ کرے گی۔تمہاری ساری طاقتیں مجتمع ہونے کے باوجود یقیناً نا کام اور نامراد ہوں گی اور تم میرا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکو گے۔یہ ایک ایسے اللہ کے نبی کا چیلنج تھا جو تنہا تھا جس کے ساتھ چند ایسے لوگ اکٹھے ہو گئے تھے جن کو قوم کی نظریں نیچا دیکھ رہی تھیں انہیں گھٹیا سمجھتے تھے جیسے پنجاب میں غلط مشہور ہے کمی کاری اسی قسم کے کچھ لوگ تھے جو حضرت نوح کے گردا کٹھے ہوئے اور ساری قوم نے ان کو رد کیا اور تحقیر سے اور تمسخر سے ان کو دیکھا کہ یہ لوگ ہیں جو نوح کے گرد اکٹھے ہو گئے ہیں۔یہ حال تھا اور دعوے اتنے بڑے بڑے چیلنج اتنا عظیم الشان کہ آدمی کولڑ کھڑا دیتا ہے یہ چیلنج کمزور نہتا، بے بس انسان لکڑیاں اکٹھی کر رہا ہے ان میں میخیں ٹھونک رہا ہے اور دعوی یہ ہے کہ تم سارے اکٹھے ہو جاؤ جو کچھ کرگزرنا ہے کر گزرو۔یا درکھیں کہ حضرت نوح کا یہ اعلان کشتی کے مکمل ہونے اور کشتی پر سوار ہونے سے پہلے کا اعلان ہے ورنہ کشتی پر چڑھ کے تو آپ نے قوم کو یہ آواز نہیں دی تھی۔جب قوم سب کچھ کر سکتی تھی حضرت نوح قوم کے سامنے نہتے اور بے بس بیٹھے ہوئے تھے اس وقت یہ اعلان تھا کہ جو کچھ تم نے کرنا ہے کر گزرو۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اب جماعت احمدیہ کو بھی وہی حیثیت حاصل ہے جو ایک زمانے میں حضرت نوح کو حاصل تھی اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کوکشتی نوح بنانے کا جو حکم تھا وہ اسی غرض سے تھا اور کشتی نوح بنانے والے نے یہ اعلان کیا تھا کہ تم جو چا ہوا کٹھے کرلو۔ناک رگڑ لو تمہاری پیشانیاں گھس جائیں روتے روتے آنکھوں کے حلقے گل جائیں مگر یا درکھو تم جو کچھ بھی