خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 564
خطبات طاہر جلد 16 564 خطبہ جمعہ یکم راگست 1997ء کر دے۔اس لئے ہمیں مسلمان بننے کے لئے ضروری ہے کہ اس پہلو سے ان آیات پر عمل کریں۔اگر اس پہلو سے ان آیات پر غور کریں تو پھر دنیا کے مسلمان کہنے یا نہ مسلمان کہنے کا جھگڑا ہی ختم ہو جاتا ہے۔ایک ہی حکم ہے کہ دین کو خدا کے لئے خالص کرو۔جو بھی دین کو خدا کے لئے خالص کرے گا خدا کی نظر میں وہی مسلمان ہے اور جتنا خالص کرے گا اتنا ہی اس کی مسلمانی کا مقام بڑھتارہے گا۔سب سے پہلے تو لفظ دین ہے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دین سے کیا مراد ہے۔قُل اِنّى أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ عام طور پر تراجم میں لفظ اطاعت ملے گا لیکن لفظ اطاعت معنی درست ہونے کے باوجود اس دین کے لفظ کی اصلیت میں شامل نہیں ہے۔اس موقع پر، اس محل پر اطاعت کا مضمون ہی ہے جو پیش نظر ہے اور یہ کیسے ہے اور دین کا اصل معنی کیا ہے اس سلسلے میں قرآن کے حوالے سے میں آپ کے سامنے چند امور رکھتا ہوں۔قرآن کریم دین سے مراد مسلک لیتا ہے اور مسلک کا الہی مسلک ہونا لازم نہیں۔کوئی بھی مسلک ہو جس پر چلنے پر انسان پابند ہو اس کو قرآن کریم دین کہتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں دین الملک کا حوالہ دیتا ہے۔ماگان لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ (يوسف: 77) حضرت یوسف علیہ السلام کو یہ طاقت نہیں تھی یا اس بات کے مجاز نہیں تھے کہ وہ بادشاہ کے دین میں اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھ سکیں۔اب صاف پتا چلا کہ وہاں بادشاہ کے دین سے مراد مذہب ہرگز نہیں بلکہ قانون ہے ملک کا اور وہ قانون جس پر چلنا لازم ہو وہی مسلک ہے جس کو قرآن کریم دین کے حوالے سے یاد کرتا ہے۔تو ہر وہ مسلک جو قانون سازی کے نتیجے میں انسان اپنا لے اس کو بھی دین کہیں گے۔ہر وہ مسلک جو جابر ملک پر ٹھونس دے جس پر چلنا سب کے لئے ضروری ہو اس کو بھی دین کہیں گے اور وہ مسلک جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے پیدا کیا ہے اس کو بھی دین کہتے ہیں۔اس مسلک میں طوعاً بھی شامل ہے اور کرھا بھی شامل ہے۔لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرہ:257) کے اور معنی ہیں وہاں دین خدا کے نام پر، خدا کے بتائے ہوئے مسلک پر چلنے کو کہا گیا ہے لیکن دین انسانی فطرت بھی ہے اور وہاں طوعاً کی کوئی بحث نہیں ہوتی۔ہر وہ چیز جو فطرت میں گوندھی ہوئی ہے جس کے مطابق فطرت کو لازماً چلنا ہے وہ دین جو ہے وہ تو جانوروں کا بھی ایک دین ہے ہر چیز جو زندگی رکھتی ہے اس کا ایک دین ہے یعنی اس کے اندر جو خدا تعالیٰ نے صفات ودیعت کر دی ہیں جن پر چلنا اس کے لئے لازم ہے یہ دین