خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 554 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 554

خطبات طاہر جلد 16 554 خطبہ جمعہ 25 / جولائی 1997 ء صلى الله اور یہ بار بارا تر نے والی روح ہے۔چنانچہ آنحضرت علی کی جب مسیح نے پیشگوئی کی اور گویا آنحضرت کے آنے کو اپنا آنا قرار دیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں یہی مسیحیت تھی جو دوبارہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی صورت میں دنیا میں ظاہر ہوئی ہے اور آنحضرت ﷺ کو جو مردوں کو زندہ کرنے کی توفیق ملی ہے اس کا ایک تعلق تو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ایک خاص شان نصیب ہوئی لیکن اس کا تعلق انبیاء سے بھی ہے اور پہلا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہے جو تو حید کے ایسے علمبردار تھے کہ نبیوں میں آپ نے جو مردوں کو زندہ کرنے کے لئے دعائیں مانگیں اور آپ کو جو نشان دکھائے گئے ان میں دراصل آنحضرت ﷺ کے ظاہر ہونے کی پیشگوئیاں تھیں اور صبح کو جو عبودیت کے ساتھ اور خدا کی توحید کے ساتھ نسبت تھی آپ نے بھی جب بے قراری سے دعائیں کیں اور یہ چاہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی اس لہی محبت کو عام کر دے اور ہمیشہ کے لئے قائم کر دے تو وہ بے قرار دعائیں مسیح کی ایسی تھیں جو حضرت رسول اللہ یہ کی صورت میں اس طرح پوری ہوئیں کہ گویا آپ کا آنا ایک رنگ میں مسیح کا آنا تھا۔پس جہاں لفظ محمد کو حضرت موسیٰ سے ایک نسبت ہے وہاں لفظ میسحیت کو حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کے نام احمد سے نسبت ہے اور اسی رستے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہ احمد ہے جو آج دنیا پر طلوع ہو چکے ہیں۔آنحضرت یہ اگر مسیح کا جلوہ نہ دکھاتے مسیحیت کا جلوہ آپ کی ذات میں مشتمل نہ ہوتا تو ناممکن صلى الله تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آنحضرت ﷺ کی نمائندگی میں احمدیت کا جلوہ دکھا سکتے۔پس میسحیت سے ہمیں ایک نسبت ہے، گہرا تعلق ہے اور مسیحیت ایک روح کا نام ہے یعنی Soul نہیں بلکہ روح ایک مزاج کا نام ہے جو ہمیشہ توحید سے تعلق رکھتی رہے گی اور ہمیشہ جب بھی تو حید کو خطرہ ہوگا رونما ہوگی۔یہ وہ مسیح کی حقیقت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سمجھی اور بیان فرمائی۔پس وہ سارے لوگ جو اس تحریر کا حوالہ دے کر جو میں نے آپ کے سامنے پڑھی ہے غلط ترجمہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور آپ کی ذات پر تمسخر اڑاتے ہیں ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو سب سے پہلے حضرت محمد مصطفی ﷺ کو مسیحیت کا جلوہ قرار دیا اور خود قرآن کریم نے یہی بیان فرمایا کہ حضرت رسول اللہ ﷺ کا آنا گو یا مسیح کا آنا تھا۔تو یہ مسلمان کہلانے والے علماء جو تضحیک اور تمسخر کے عادی ہو چکے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے وہ غلط