خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 555 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 555

خطبات طاہر جلد 16 555 خطبہ جمعہ 25 / جولائی 1997ء معنی لے کر اچھلتے ہیں اور گز بھر اچھلتے ہیں اور اس سے زیادہ اچھلنے کی ان کو تو فیق بھی نہیں۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور احمدیت پر غلط اور جھوٹے حملے کرتے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مسیحیت کے دشمن ہیں جو مسیح کی نہیں تھی بلکہ اکثر لفظ یسوع کے نام کے ساتھ یاد کی جاتی ہے۔اس میسحیت کے دشمن ہیں جو خود مسیح کی دشمن ہے جس نے مسیح کے وجود کو ایک ایسی شکل میں دنیا کے سامنے ابھارا کہ قیامت کے دن قرآن کریم کے نزدیک خود مسیح کو اس میسحیت کا انکار کرنا پڑے گا اور اس شخصیت کا انکار کرنا پڑے گا جو آپ کی طرف منسوب کی گئی تھی۔پس یہ وہ بنیادی طرز کلام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اختیار فرمائی۔کہیں آپ کو بہت بڑے اور سخت لفظ دکھائی دیں گے جو یسوع کے متعلق بولے گئے ہیں اور کہیں ایک عشق کا دریا رواں ہو جاتا ہے اور اتنا تقدس ہے مسیحیت کا کہ گویا مسیحیت خود آنحضرت علیہ کی ذات میں جلوہ گر ہو چکی ہے اور اس پہلو سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئندہ زمانوں کے لئے نجات دہندہ قرار دیتے ہیں۔پس جو بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے طرز کلام کو نہیں سمجھے گا وہ اس تفریق کو پہچان نہیں سکتا اور اسی وجہ سے بہت سے شوخوں نے ٹھوکر کھائی اور شوخیوں میں بہت آگے بڑھ گئے۔پس میں آپ کے سامنے یہ تحریر پڑھ چکا ہوں اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ اس مضمون کو خاص طور پر سمجھیں گے۔مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں تو آخر تو حید کی فتح ہے۔غیر معبود ہلاک ہوں گے اور جھوٹے خدا اپنی خدائی کے وجود سے منقطع کئے جائیں گئے، اس میں کچھ ایسے جھوٹے خدا بھی ہیں جو خدا بنتے ہیں اور خدا ہوتے نہیں اور کچھ ایسے بچے انسان بھی ہیں جن کی طرف جھوٹی خدائی منسوب کر دی گئی ہے۔پس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ایک ایسا دور آنے والا ہے کہ یہ بچے لوگ اپنی جھوٹی خدائیوں سے منقطع کئے جائیں گے یعنی مسیح کو ایک ایسا مقام اور مرتبہ حاصل ہوگا کہ وہ اپنے اوپر عائد کردہ تمام الزامات سے بری کیا جائے گا اور دنیا کے سامنے خدا کے موحد سچے عاشق رسول کے طور پر پیش ہوگا جس کے فیض کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے۔یہ جو قیامت تک ممتد ہونے کا مضمون ہے اس کا تعلق مسیحیت کے ساتھ بہت گہرا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں میں کثرت سے یہ مضمون ملتا ہے لیکن اس وقت میں اس مضمون کو نہیں چھیڑوں گا کیونکہ جمعہ کے دوران چند مختصر الہامات آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں جن کا انشاء اللہ تعالیٰ