خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 552
خطبات طاہر جلد 16 552 خطبہ جمعہ 25 / جولائی 1997 ء سمجھانے کی ضرورت ہے جن کی تشریح کی ضرورت ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا میرے نزدیک یہ جماعت احمدیہ کے لئے اب ایک ہی مضمون باقی ہے وہ تو حید کا مضمون ہے۔باقی جتنی بھی باتیں ہیں وہ تو حید ہی کے گردگھومتی ہیں اور توحید سے متعلق میں آپ کو مطلع کر رہا ہوں اور کافی عرصے سے مطلع کر رہا ہوں کہ اگر آپ تو حید پر قائم ہو جائیں اور توحید کی طرف بنی نوع انسان کو بلائیں تو یہ ایک ہی راہ ہے جس سے مرتی ہوئی دنیا پھر سے زندہ ہو سکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس تحریر میں جھوٹے خداؤں اور جھوٹے معبودوں کا ذکر کیا ہے اور یہ وہ فقرے ہیں جو تشریح طلب ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام، نعوذ باللہ حضرت عیسی کے متعلق جھوٹ کا لفظ منسوب کر ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ آپ تو خود عیسی کے مثیل ہیں۔اس لئے نعوذ باللہ یہ مطلب لینا کہ گویاوہ عیسی جو جھوٹا تھا نعوذ باللہ دوبارہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔یہ وہ دشمن جو عیسائی بھی ہیں اور مسلمان معاندین بھی ہیں وہ ان عبارتوں سے غلط استفادہ کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ دیکھو یہ اچھا مسیح ہے جس نے پہلے مسیح کو جھوٹا قرار دیا جس نے پہلے مسیح کی ماں کو جھوٹا قرار دیا اور اب خود مسیح بنتا ہے اور اسی مسیح کی ہم شکل اور شبیہہ ہونے میں فخر کرتا ہے اور جہاں تک مسلمان معاندین کا تعلق ہے انہوں نے اس عبارت کو بہت اچھالا ہے اور یہاں تک کہا کہ دیکھو اب اپنے منہ سے یہ اقراری جھوٹا ہے۔نعوذ باللہ من ذالک۔حضرت مرزا صاحب کے متعلق کہتے ہیں کہ اقراری مجرم ہم آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں جس کے شبیہہ ہونے پر ، جس کے مثیل ہونے پر ان صاحب کو فخر ہے اس کے متعلق خود لکھتے ہیں کہ جھوٹا ہے اور یہ بھی لکھتے ہیں کہ اس کی ماں بھی جھوٹی تھی۔یہ محض ایک دھوکہ ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت مسیح کے خدا بنائے جانے کو جھوٹ قرار دے رہے ہیں اور حضرت مریم کی طرف اس غلط بات کو منسوب کرنے کو جھوٹ قرار دے رہے ہیں کہ گویا حضرت مریم خود اس بات پر فخر محسوس کرتی تھیں کہ انہوں نے خدا کے بیٹے کو جنم دیا ہے۔پس جو غلط تصورات دنیا میں پھیل چکے ہیں ان تصورات نے ایک عیسٹی کی شکل پیش کی۔ان جھوٹے اور غلط تصورات نے حضرت مریم کو معبود بنا کر دکھایا اور خدا تعالیٰ کی بیوی بنا کر دنیا سے متعارف کروایا۔یہ باتیں ہیں جن کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سختی سے انکار فرماتے ہیں اور ان کو توحید باری تعالیٰ کے خلاف قرار دیتے ہیں اور توحید کے خلاف جو بھی معبود ہوگا وہ بحیثیت معبود کے