خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 545 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 545

خطبات طاہر جلد 16 545 خطبہ جمعہ 18 / جولائی 1997 ء انسانوں نے اسے شخصیتیں عطا کیں جو اس کی شخصیت نہیں ہیں۔روح تو اللہ کے لئے صاف ہو جانے کا نام ہے اور پھر خدا کے رنگ ایسی روح پر چڑھتے ہیں اور خدا کے رنگ عالمی ہیں۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ کے رنگ کسی ایک ملک سے تعلق رکھنے والے ہوں۔خدا کی تمام صفات عالمی ہیں اور وہ روحیں جن پر مقامی رنگ چڑھے ہوئے ہوں ان پر عالمی رنگ نہیں چڑھا کرتے اس لئے اس کو صاف کرنا بھی اس جلسے پر ہمارا کام ہے۔آپ جب ایک دوسرے سے ملیں ایک دوسرے سے تعلق رکھیں تو اس مرکزی حیثیت کو کبھی نہ بھولیں۔ہم سب ایک ہیں اور یہ ایک ہونا غیروں نے بھی محسوس کیا ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ جماعت احمدیہ کی صداقت کا ایک نشان بن کر ابھرتا ہے، اسے اور بھی زیادہ چمکائیں۔اس موقع پر بنگالی، پاکستانی، ہندوستانی ، انگریز، جاپانی، چینی، امریکن یہ سارے نام باہر کے لیبل بن جائیں لیکن روحوں کے رنگ نہ بنیں اور جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ صرف تعارف کی حیثیت سے یہ نام لئے جائیں۔مگر روحیں حقیقہ نہ امریکن ہیں نہ جاپانی نہ چینی۔جب وہ مریں گی تو ان کی ساری نیشنیلیٹیز، ساری دنیاوی شخصیات پیچھے رہ جائیں گی۔وہ اکیلی ہی جائیں گی ان کے ساتھ کوئی بھی شخصیت وابستہ نہیں ہوگی۔پس اس پہلو سے ان کو خدا کے رنگ دلانا یہ ہمارا کام ہے۔اس کے علاوہ جو بہت سی باتیں تھیں مگر مختلف جلسوں پر کبھی ایک یاد آجاتی کبھی دوسری مگر ایک بات مجھے ہمیشہ یاد رہتی ہے اور وہ آخر پر میں ضرور کیا کرتا ہوں کہ عبادت کو ترجیح دیں، عبادت کو اہمیت دیں۔جلسہ عبادت کرنے والوں کا جلسہ ہے۔جلسہ اس مقصد کی خاطر ہے کہ خدا کے بندے خدا کے ہو جائیں جو عبادت کے بغیر ممکن نہیں۔وہ جو روح والی بات میں کہہ رہا ہوں اس کو صاف کرنے کا ایک ہی طریق ہے۔جب آپ عبادت پر زور دیتے ہیں تو آپ کا تعلق اللہ سے ہو جاتا ہے۔پھر آپ نہ ٹھوکر لگانے والے رہتے ہیں، نہ ٹھوکر کھانے والے ہوتے ہیں اور ایسے لوگ نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔میں جانتا ہوں ایسے لوگوں کو جن کے اوپر کسی پاکستانی نے زیادتی کی ہے وہ ہیں کہیں اور کے رہنے والے۔وہ کبھی بھی یہ نہیں دیکھیں گے کہ پاکستانی نے ہم سے زیادتی کی ہے، پاکستانی ہیں ہی گندے لوگ۔وہ یہ سمجھے گا کہ ایک احمدی نے مجھ سے زیادتی کی ہے اور وہ احمدی کی زیادتی کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرے گا مگر دور نہیں ہٹے گا۔ایسے موقع پر بعض لوگ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم سے فلاں نے یہ زیادتی کی ہے اور ہم اس کو سمجھاتے ہیں مگر نفرت نہیں کرتے۔آپ