خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 544 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 544

خطبات طاہر جلد 16 544 خطبہ جمعہ 18 / جولائی 1997 ء سے گلے ملیں تو آپ اس کے رنگ دیکھ رہے ہوں اور وہ آپ کی پاکستانیت دیکھ رہا ہو۔یہ سارے چہرے، بدن نظروں سے غائب ہو جاتے ہیں، محض روحیں دکھائی دیتی ہیں۔ہزاروں آدمیوں سے ملاقات کرتا ہوں لیکن میرے ذہن میں کسی خیال کے گوشے میں بھی یہ بات نہیں آئی کہ یہ فلاں ملک کا ہے۔اس کا ملک کا ہونا ایک تعارف کے طور پر تو ہے لیکن اس سے ملتے وقت صرف وہ پاکیزہ روح دکھائی دیتی ہے جو خدا کی بنائی ہوئی روح ہے اور یا درکھیں کہ روح کا کوئی رنگ نہیں ہوا کرتا۔روح کا کوئی بدن نہیں کوئی شکل نہیں۔روح ہر انسان کی ایک ہے اور اس ایک روح کا جب ہم سب روحوں کی اکٹھی بات کرتے ہیں تو اس ایک روح کا عالمیت اختیار کر جانا اور توحید کے نیچے واقعہ ایک ہو جانا یہ توحید کی علمبرداری ہے۔ورنہ نعرہ ہائے تکبیر سے توحید کی علمبرداری نہیں ہوتی۔آپ بحیثیت جماعت توحید کے علمبر دار اس وقت بنیں گے جب آپ دنیا میں خدا کے نیچے خدا کی روحوں کو ایک کر دیں گے اور ان کے رنگ اڑا دیں گے، ان کی نسلیں جو خواہ مخواہ چمٹی ہوئی ہیں وہ ان کے ساتھ اس طرح مل مل کے اتاریں گے جس طرح مائیں بچوں کی میل اتارتی ہیں اور امر واقع یہ ہے کہ یہ کام ہمیں کرنا ہے۔بہت سے ملکوں میں ان روحوں کے ساتھ کچھ گندگیاں لپٹ گئی ہیں، کچھ کپڑے چھٹے ہوئے ہیں ، کچھ رنگ چھٹے ہوئے ہیں جو روحوں کے اپنے نہیں ہیں۔اگر انگلستان میں کسی شخص کو اپنی روح سفید دکھائی دے رہی ہے تو اس کی بیوقوفی ہے۔اس کا رنگ سفید ہوگا ، اس کی روح کا تو وہی رنگ ہے جو افریقن روحوں کا ہے یا چینی روحوں کا ہے یا جاپانی روحوں کا ہے۔روح ایک ہی چیز ہے اور یہی روحیں ہیں جو واپس لوٹیں گی۔یہی روحیں ہیں جو اپنے خدا کے حضور حاضر ہوں گی کیونکہ ان روحوں کے ساتھ پلید گیاں مل دی گئی ہیں، آلودہ کر دیا گیا ہے ان کو ، اس لئے جماعت کے کاموں میں سے ایک بڑا کام یہ ہے کہ ان سب روحوں کو صاف کر کے بے ملک بنادیں، بے نسل بنادیں اور بے رنگ بنا دیں، ان معنوں میں کہ جو رنگ رہ جائے باقی وہ صرف اللہ کا رنگ ہوگا۔روح جیسے اللہ سے ایک تعلق رکھتی ہے ویسے ہی دنیا میں ہماری روحیں خدا سے متعلق ہو کر اس کی توحید کا مظہر بن جائیں۔یہ وہ پیغام ہے جو میں گزشتہ کچھ عرصہ سے جماعتوں کو بار بار دے رہا ہوں۔جہاں بھی میں دورے پر جاتا ہوں وہاں اس بات پر اصرار کرتا ہوں کہ اپنی روحوں کو عالمی روح بناؤ اور روح ہے ہی عالمی۔خدا نے اسے عالمی بنایا تھا۔انسانوں نے اس کو ملوث کر دیا، انسانوں نے اسے گندا کر دیا ،