خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 543
خطبات طاہر جلد 16 543 خطبہ جمعہ 18 / جولائی 1997 ء نے یہ حرکت کی ، فلاں جماعت کی یا کردار کی عورت تھی اس نے یہ حرکت کی اس لئے ہم مجبور ہیں۔ہم جماعت سے پیچھے ہٹتے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی اجازت نہیں دیتا۔ٹھوکر کھانے کی اجازت نہیں لیکن ٹھوکر لگانے والوں کے لئے ایک اور مضمون ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ وہ شخص جس سے ایک شخص کو ٹھوکر لگے، بہتر تھا کہ وہ نہ پیدا ہوتا۔پس جہاں تک ٹھوکر لگانے کا مسئلہ ہے اس کا جرم اور بھی زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ خواہ وہ مقامی دوست ہوں خواہ باہر سے آنے والے ہوں اپنے آپ کو سنبھال کر رکھیں کہ ایسے جلسے میں شرکت کر رہے ہیں جس کی کوئی مثال دنیا میں نہیں اور جب میں یہ کہتا ہوں میں خواہ مخواہ اپنی جماعت کو گویا کہ بڑھانے کے لئے اس کی تعریف کی خاطر نہیں کہہ رہا۔بہت باریکی سے میں نے جلسے کے ہر انتظام کو اور شامل ہونے والوں کے اعلیٰ اخلاق کو دیکھا ہے۔میں جانتا ہوں کہ ایسا جلسہ دنیا میں کبھی کہیں نہیں ہوتا، نہ ہوسکتا ہے اور آنے والے خود یہی کہا کرتے ہیں۔جتنے مختلف ملکوں سے آنے والے ہیں وہ مجھے یہ بتاتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہم نے تو ایسی چیز کبھی نہیں دیکھی۔خود انگلستان کے باشندے جو کسی انتظام کے ساتھ ملوث ہوتے ہیں وہ یہ کہہ کر جاتے ہیں کہ ایسا جلسہ ہم نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ ایسے آنے والوں کے منہ دیکھے ہیں۔بعض لوگوں نے تو یہاں تک کہا کہ لمبا تجربہ رکھنے والوں نے ، کہ دنیا کے ہر ملک سے یا بڑے بڑے ممالک سے لوگ آئے لیکن ہر ایک کا کردار ایک تھا۔پس یہ جو مرکزیت ہے یہ توحید کی نشانی ، انہوں نے توحید تو استعمال نہیں کیا لیکن مقصد ان کا یہ تھا جس چیز نے ان کو متاثر کیا وہ یہ تھی، تو حید ہی تھی۔تو حید ایک آسمان پر ہے اور ایک زمین پر ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ کی جماعت کو یہ توفیق ملی ہے کہ دنیا میں مختلف جگہوں سے اور مختلف زبانیں بولنے والے مختلف رنگوں والے یہاں اکٹھے ہو رہے ہیں اور ہر ایک کا مرکزی کردار ایک ہے۔ان کا چلنا پھرنا اس کے اندر ایک وقار ہے ، اس کے اندر ایک شرافت ہے۔اس کے دیکھنے کی طرز، اس کا ہر پہلو اپنے اندر ایک نمایاں ایک ایسی مثال رکھتا ہے جو باہر دکھائی نہیں دیتی۔پس اس بات کو آپ نے قائم رکھنا ہے اپنی مرکزیت کو ، یعنی اللہ کے نیچے اگر انسان ایک ہوسکتا ہے تو وہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ ہوگا اور یہ اس جلسے کی سب سے بڑی خوبی ہوتی ہے۔ہر طرف سے آنے والا ایک دوسرے کو گلے مل رہا ہے۔کبھی آپ نے یہ نہیں سوچا ہوگا کہ کسی افریقن