خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 533
خطبات طاہر جلد 16 533 خطبہ جمعہ 18 / جولائی 1997 ء چاہئے کہ وہ چند دن کے بعد پھر جماعتی انتظام میں منتقل ہو جائیں کیونکہ جو مقامی دوست ہیں سوائے اس کے کہ ان کی رشتہ داریاں ہوں ، ان کی دوستیاں ہوں، پرانے سلسلے چل رہے ہوں آپس میں ایک دوسرے کے ہاں ٹھہرنے کے ، ان کے سوا جو اجنبی مہمان ہیں ان کو چند دن کے بعد از خود ہی جماعتی نظام میں منتقل ہو جانا چاہئے تا کہ مقامی دوستوں پر ضرورت سے زیادہ بوجھ نہ پڑے۔یہ آیت کریمہ جو میں نے پڑھی ہے وَاتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ الْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا اس میں اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے کہ وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ جو قریبی ہے اس کا حق اس کو دوالمسکین اور مسکین کو بھی وَابْنَ السَّبِیلِ اور راستہ چلتے کا بھی وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا لیکن حد سے زیادہ اسراف نہ کرنا۔اس آیت کے مختلف پہلو سے اطلاق ہو سکتے ہیں۔کچھ تو اس پہلو سے کہ بعض لوگ محض دکھاوے کی خاطر اپنی توفیق سے بڑھ کر بعض مواقع پر خرچ کرتے ہیں جبکہ ان کا دل اندر سے تنگی محسوس کرتا ہے۔ایسے مواقع پر مثلاً شادی بیاہ پر آنے والوں پر یا قریبیوں کے گھر ٹھہریں یا مسکین کو بھی جب وہ کھانا کھلائیں تو دکھاوے کی خاطر کھلائیں گے، رستہ چلتے کو بھی دیں گے تو دکھاوے کی خاطر دیں گے، ایسے لوگ ہمیشہ اپنی توفیق سے بڑھ کر خرچ کیا کرتے ہیں اور اپنا نام کمانے کی خاطر ایک نیکی سرانجام دیتے ہیں اس نیکی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيطِيْنِ یہ خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔وَكَانَ الشَّيْطَنُ لِرَبِّهِ كَفُورًا اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے اور یہ لوگ جو اپنی توفیق سے باہر خدا کی خاطر نہیں بلکہ اپنے نفس کو بڑا کرنے کی خاطر خرچ کرتے ہیں۔وہ دکھاوا کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی ناشکری کرتے ہیں میں نہیں سمجھتا کہ ان معنوں کا کوئی اطلاق بھی جلسے کے دوران کسی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔جہاں تک میں نے یہاں کے میز بانوں کو دیکھا ہے وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے محض اللہ کی خاطر یہ کام کرتے ہیں اور کوئی دکھاوا ہر گز ان کا مقصود نہیں ہوتا۔لیکن اس آیت کریمہ کا ایک اور معنی بھی لیا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ جو خدا کی خاطر خرچ کرتے ہیں ان کو ان اقدار کو سامنے رکھنا چاہئے اور نیکی کی خاطر بھی حد سے بڑھ کر کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ذَا الْقُرْبی، الْمِسْكِينَ، وَابْنَ السَّبِيلِ، ان پر خرچ کرنا نیکی ہے اور بعید نہیں کہ بعض لوگ دھوکے میں کہ نیکی پر خرچ کر و جتنے مرضی قرضے اٹھا ؤ سب جائز ہے وہ ضرورت سے بڑھ کر خرچ کر دیں۔ایسے نیک نیت لوگ جو حقیقت میں غلطی خوردہ ہیں۔ان کے لئے نصیحت ہے کہ ایسانہ کرناورنہ ہی شیطانی کام ہوگا جو تمہیں نقصان پہنچائے گا۔