خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 534
خطبات طاہر جلد 16 534 خطبہ جمعہ 18 جولائی 1997ء پس مہمان نوازی میں توفیق ضروری ہے۔ایسی توفیق جو کھینچ کر لمبی تو کی جاسکتی ہے مگر اس کی حدود سے باہر نہیں نکلا جا سکتا۔آپ مہمان کی خاطر وقتی طور پر کچھ قرض بھی اٹھا سکتے ہیں جو کچھ عرصے کے بعد واپس کر سکتے ہیں اور انسان اپنے لئے جب قرض اٹھاتا ہے تو مہمانوں کی خاطر بھی قرض اٹھایا جا سکتا ہے مگر یہاں جس تبذیر کا ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ انسان قرضوں کے بوجھ تلے دب جائے ، اپنی توفیق سے باہر کی چھلانگ لگائے اور مقصد صرف دکھاوا ہو تو دکھاوا نہ بھی مقصد ہو، نیکی بھی مقصد ہواس میں بھی اپنی توفیق کو پیش نظر رکھنا چاہیئے۔آنحضرت ﷺ کے زمانے میں سادگی تھی اور بے تکلفی تھی۔توفیق نہ بھی ہو تو تو فیق بنالی جاتی تھی اور اس سلسلے میں آنحضرت یہ سب سے پہلے مہمانوں کی خاطر اپنے گھر سے سوال کیا الله صلى الله کرتے تھے کہ بتاؤ کچھ ہے کہ نہیں۔ایک موقع پر آنحضرت ﷺ نے ایک مہمان کی خاطر سوال کیا تو سب ازواج مطہرات کی طرف سے یہی جواب آیا کہ ہمارے پاس سوائے پانی کے اور کچھ نہیں۔آنحضرت ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ جس طرح چاہو ، جو چاہو کرو مگر تم نے ضرور مہمان کی خدمت کرنی ہے۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے کوئی اور ہے جو اس مہمان کو لے لے۔ایک صاحب اٹھے انہوں نے کہا یا رسول اللہ میں ہوں۔اتنی غربت کا زمانہ تھا کہ اس کے گھر میں بھی اور کوئی کسی کے لئے کھانا نہیں تھا۔نہ ماں کے لئے کھانا تھا نہ باپ کے لئے کھانا تھا۔صرف بچوں کے لئے پڑا ہوا تھا لیکن وہ اٹھا اور بڑی بہادری سے کہا۔اب یہ تبذیر نہیں ہے۔توفیق سے بڑھ کر تو خرچ ہے مگر وہ تو فیق کھینچ کر بڑھا دی گئی ہے یعنی تکلیف برداشت کرنے کی توفیق۔یہ معاملہ تبذیر سے باہر کا معاملہ ہے۔پس وہ تکلیف جو انسان مہمان کی خاطر اٹھاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مہمان نوازی میں شمار ہوتی ہے۔چنانچہ اس موقع پر خاص طور پر ایسا واقعہ گزرا جو قیامت کے دن تک مہمان نوازی میں آسمان کے ستاروں کی طرح چمکتا رہے گا۔اس خاوند نے اپنی بیوی سے پوچھا کتنا کھانا ہے؟ اس نے کہا صرف اتنا کہ بچوں کو دیا جا سکتا ہے۔اس نے کہا اچھا پھر بچوں کو تو سلا دو۔جس طرح بھی ہو تھپکیاں دو تم نے اور میں نے بھی کھانا نہیں کھانا۔یوں کرنا کہ لیمپ ٹھیک کرنے کے لئے جو دیئے ہوا کرتے تھے اس زمانہ میں اس کو درست کرنے کی خاطر کھانا کھانے سے پہلے وہ دیا بجھاد دینا اور بظاہر یہ اثر پڑے گامہمان پر کہ اچانک غلطی سے بجھ گیا ہے۔وہ دیا بجھا کر میں اور تم خالی منہ سے آوازیں نکالیں گے اور