خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 532
خطبات طاہر جلد 16 532 خطبہ جمعہ 18 جولائی 1997ء واپس جاتے ہیں ہمارا اب یہاں سے کوئی تعلق نہیں۔ان کو لازماً معاف کیا جانا تھا اور معاف کیا گیا لیکن جو بداثر پیدا کر دیا گیا ہے وہ بہت ہی خوفناک ہے جو ابھی تک چل رہا ہے۔یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے ایمبیسی والے جماعت کے بعض بزرگوں کے منہ پر یہ بات مارتے رہے اور دیکھتے ہوئے بھی کہ یہ لوگ وہ نہیں ، یہ چہرے وہ نہیں ہیں جو اس قسم کی حرکتیں کریں پھر بھی ان کی بے عزتی کرتے رہے۔پس اس دفعہ خصوصیت کے ساتھ ہمارا رابطہ متعلقہ محکموں سے ہوا ہے ان سے ہم نے دوبارہ درخواست کی ہے کہ از سر نو اس پر غور کریں اور دوبارہ انہوں نے کچھ سہولتیں دینی شروع کی ہیں۔اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ کوئی ایک بھی گندی مچھلی اس صاف ماحول کو دوبارہ گندہ نہیں کرے گی۔جہاں تک آنے والوں کا تعلق ہے ہر دوسرے پہلو سے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ ہمارے مہمان ہیں اور اس لئے مہمان ہیں کہ وہ اللہ کے مہمان ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ہیں اور ہم ہر پہلو سے ان کی عزت کرتے ہیں اور عزت کریں گے۔جہاں تک جماعت کے دوستوں کا تعلق ہے جو انگلستان میں رہتے ہیں یا مختلف مہمان نوازی کے شعبوں میں خصوصیت کے ساتھ متعلق ہیں ان کو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مہمانوں کے دل نازک ہوا کرتے ہیں۔بہت سے ایسے ہیں جو اپنے رشتہ داروں یا عزیزوں کے گھر ٹھہریں گے اور وہ دیر سے ان کو جانتے ہیں، ان کا معاملہ الگ ہے لیکن کچھ ایسے بھی جو محض خدا کی خاطر آئے، کسی کو جانتے نہیں ، ان کی مہمان نوازی شعبے نے کرنی ہے اور وہ ذاتی مہمان نوازی نہیں مگر اللہ کی خاطر ہے۔جہاں تک مہمان نوازی کے ایام کا تعلق ہے تین دن کی روایت ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مہمانی تین دن کی ہوا کرتی ہے اس کے بعد اجازت سے ٹھہرو اور مہمانی کے بعد جو تعلق ہے میز بان اور مہمان کا اسے صدقہ فرمایا لیکن نظام جماعت میں آنا جو ہے وہ اور رنگ رکھتا ہے۔یہ ہرگز اس قسم کا معاملہ نہیں کہ تین دن کے بعد صدقہ شروع ہو جائے۔جماعت نے پندرہ دن کی ذمہ داری قبول کی ہے کیونکہ بہت دور دور سے لوگ تشریف لاتے ہیں اور یہاں آتے ہی تین دن ہاتھ لگا کر واپس جانا ان کے لئے ممکن ہی نہیں۔ویسے بھی ممکن نہیں یعنی سفر کی جو سہولتیں مہیا ہوتی ہیں اور خاص تین دن کے لئے احمدیوں کو نہیں مل سکتیں اس لئے ان سہولتوں کو پھیلانا پڑتا ہے۔اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں پندرہ دن جہاں تک ہمارا پرانا تجربہ ہے کافی ہیں اور پندرہ دن آپ جماعت کے مہمان ہوں گے لیکن جو انفرادی طور پر کہیں ٹھہرے ہیں ان کو یہ خیال رکھنا