خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 522 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 522

خطبات طاہر جلد 16 522 خطبہ جمعہ 11 جولائی 1997ء عظیم غلبہ دکھائی دے یہ بات بھول جانا کہ اَرْضُ اللهِ وَاسِعَةُ یہ ان کی بے وقوفی ہوگی اور ایسی بیوقوفیاں بسا اوقات نقصان پہنچاتی ہیں۔ہندوستان میں جو پہلے ہندوستان تھا، پاکستان اور ہندوستان دونوں ملکر اسی کا حصہ ہیں ہم نے تجربہ کر کے دیکھا ہے اور میں نے اس پہلو سے خاص طور پر نظر دوڑائی ہے ان جماعتوں میں جہاں ان کو عددی غلبہ ہو گیا۔انہوں نے سمجھا کہ سارا ضلع ہی فتح ہو گیا یہ نہیں سوچا کہ اَرْضُ اللهِ وَاسِعَةٌ۔تمہاری زمین تو چھوٹی سی تھی جوار دگر د پھیلی ہوئی جگہیں ہیں وہاں نظر تو ڈال کے دیکھو، بہت بڑی زمینیں ایسی پڑی ہوئی ہیں جہاں تمہیں کام کرنا باقی ہے اور تم نے ابھی کام نہیں شروع کیا۔تو اللہ تعالیٰ حسن پر حسن عطا کرتا چلا جاتا ہے مگر تمہاری وسعتوں کے ساتھ دوسری وسعتیں تمہیں بلاتی ہیں اور اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں اور یہ پیغام ایک اور رنگ میں ابھرتا ہے اَرْضُ الله وَاسِعَةً اس زمین کو خدا نے تمہارے سپرد کیا ہے کافی نہ سمجھو اور بھی زمینیں پڑی ہوئی ہیں۔پس اس پہلو سے جب آپ گر دو پیش کو دیکھیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ بہت بڑے علاقے پڑے ہیں جہاں احمدیت کا کوئی نشان نہیں ہے۔انگلستان کی جماعت کو میں اس پہلو سے متوجہ کرتا ہوں کہ وہ پہلے مخاطب ہیں ، باقی سب جماعتیں بھی ظاہر ہے کہ ان کے ساتھ ہی مخاطب ہوں گی۔تو آپ کو میں متوجہ کرتا ہوں آپ انگلستان کا جائزہ لے کر دیکھیں ہمارے کام کرنے والے اٹھتے ہیں اپنی جماعتوں میں پہنچ جاتے ہیں اور جماعتوں کے اس محلے میں پہنچ جاتے ہیں جہاں احمدی ہیں حالانکہ اگر وہ ان کو چھوڑ کر دوسری جگہ پھر کر دیکھیں تو جس شہر میں وہ سمجھتے ہیں کہ بڑے احمدی ہیں وہ احمدی آٹے میں نمک کی طرح بھی دکھائی نہیں دیں گے۔پر اَرْضُ اللهِ وَاسِعَةُ کا مضمون تو ہر جماعت کے گردو پیش سے شروع ہو جائے گا اور ان کو چھوڑ کر باقی شہر اور بستیاں گن کے دیکھیں کتنی ہیں آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ جماعت کی تعداد اگر ستر ہے تو یہاں جو بستیاں ساری شمار کر لی جائیں تو ستر ہزار سے زائد ہوں گی۔اللہ بہتر جانتا ہے میں نے اس کے اعداد وشمار نہیں دیکھے لیکن یہ مجھے معلوم ہے کہ ہر کاؤنٹی میں بے شمار بستیاں ہیں، چھوٹے چھوٹے گاؤں ان کو کہتے ہیں بڑی بستیاں، بعض زمیندار ہیں جن کی اپنی آبادی ہے ایک اور وہی ان کی بستی بن جاتی ہے۔پس اگر انگلستان کی بستیاں شمار کریں تو ستر ہزار سے بھی