خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 505 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 505

خطبات طاہر جلد 16 505 خطبہ جمعہ 4 جولائی 1997ء صلى الله کے بسنے والے خدا کے گھر نہیں بساتے قرآن کریم سے اور آنحضرت ﷺ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ ایسے گھروں کو ویران کر دیا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا فرمائے کہ ان تقاضوں کو پورا کریں۔ اب مساجد کی باتیں ہو رہی ہیں تو ایک ایسی خبر جس سے جماعت کو تکلیف پہنچی ہے اور پہنچے گی جو سنیں گے وہ آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں اور دعا کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔ مسجد احمد یہ دوالمیال وہ مسجد ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے سے ہی جماعت احمدیہ کے قبضے میں رہی ہے کیونکہ وہ صحابی جنہوں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کیا وہی نمازی تھے جو اس مسجد کے نمازی تھے اور ان کے امام بھی ساتھ ہی احمدی ہو گئے ۔ پس پوری کی پوری مسجد اپنے نمازیوں سمیت احمدی ہوئی اور سو سال سے زائد عرصے سے یہ ہمارے پاس چلی آرہی تھی ۔ اس سال شروع میں جنوری میں وہاں کے مولویوں نے شرارت شروع کی اور ایک سول حج کی عدالت میں یہ مقدمہ دائر کیا گیا کہ اس مسجد میں احمدیوں کا داخلہ بند کیا جائے کیونکہ یہ احمدیوں کی مسجد نہیں، یہ تعمیر ہوئی تھی تو سو سال پہلے غیر احمدیوں نے تعمیر کی تھی۔ جب اول تو اتنی احمقانہ بات ، اس سول جج کو اتنی سی بات تو دکھائی دینی چاہئے تھی کہ ایک سوسال سے ان کے قبضے میں چلی آ رہی ہے اب ان کو کیا سوجھی ہے۔ اگر مقدمہ کرنا تھا تو اس وقت کرتے لیکن ضیاء الحق کے آرڈنینس سے بھی فائدہ اٹھانا تھا تو اس کو بھی تو مدت گزر چکی آج کون سی نئی بات الحق سے بھی تو تو گزرچکی ہوئی ہے کہ اس مسجد کو احمد یوں سے خالی کروایا جائے۔ اگر آرڈینینس کا عذر ڈھونڈتے ہیں تو آرڈینینس احمدیوں کو آئے ہوئے لمبا عرصہ گزر گیا کسی نے مقدمہ کیا ؟ کسی نے کیوں نہیں مقدمہ کیا مگر ملی بھگت ہوئی ہے اور ایسی جاہلانہ شرارت ہے کہ عقل اس شرارت پر لعنت ڈالتی ہے۔ جب مقدمہ ہوا تو جج صاحب نے کچھ ایسی باتیں کہیں جس پر وہاں کی جماعت نے ، ہمارے وکلاء وغیرہ نے اس بات پر مجھے اطمینان دلانے کی کوشش کی کہ یہ حج پہلے تو مخالف ہوا کرتے تھے اب کچھ ٹھیک ہو رہے ہیں۔ میں نے اس پر جواباً ان کو لکھا کہ آپ کو ٹھیک دکھائی دے رہے ہیں مجھے ٹھیک نہیں دکھائی دے رہے انہوں نے آخر گڑ بڑ کر جانی ہے کہیں لیکن خوش فہمی کا شکار لوگ اسی طرح رہے کہ ہاں جی اچھی اچھی باتیں کر رہے ہیں اور اچانک 30 رجون کو ان صاحب نے ہمارے خلاف فیصلہ جاری کر دیا اور کہا کہ احمدی مسئول علیہم مسجد میں داخل نہ ہوں اور نمازیں ادا نہ کریں اور اس فیصلے سے چار دن پہلے غیر احمدیوں کی مسجد کے