خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 497
خطبات طاہر جلد 16 497 خطبہ جمعہ 4 جولائی 1997ء صلى الله ایک تعلق ہے اس تعلق کو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے آخری زمانے کی مساجد کے ذکر میں بیان فرمایا۔فرمایا : مساجدهم عامرة وهى خراب من الهدى (مشكوة المصابيح كتاب العلم) پس میں جو کہتا ہوں کہ مسجدیں آباد ہو کر بھی ویران ہو سکتی ہیں یہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ہی کا عرفان ہے جو آپ کی زبان سے ہم تک پہنچا ہے، فرمایا وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ ان کی مسجدیں آباد تو ہوں گی مگر ویران ہوں گی۔اس بات کو سمجھنے کے لئے قرآن کریم کی طرف توجہ کرنی پڑتی ہے جہاں یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ مسجد کی رونق اپنے ساتھ لے کر جایا کرو۔خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف :32) ہر مسجد میں جہاں بھی جاؤ اپنی زینت ساتھ لے کر جاؤ اور زینت کیا ہے؟ تقویٰ۔قرآن کریم نے زینت کو ہی تقویٰ قرار دیا ہے پس ہر شخص کا متقی ہونا ضروری ہے ورنہ مساجد کو آباد نہیں کرسکتا اور اگر متقی مساجد کو آباد کرے گا تو ان مساجد میں اتنی برکت پڑے گی کہ آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔چھوٹی مساجد کو اللہ تعالیٰ وسیع تر کرتا چلا جائے گا کیونکہ ہر مسجد کا لازماً آباد رکھنا ضروری ہے۔اسی آیت کا اگلا حصہ بیان فرماتا ہے هُدًى لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کہ یہ وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں یعنی لوگوں کا خیال ہے کہ وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں کیونکہ فی الحقیقت بہت کثرت سے ایسے لوگ ہیں جو غیب پر ایمان نہیں لاتے۔جب تک غیب دور ہٹا ہوا ہے ان سے کوئی تقاضے نہیں کرتا وہ اس پر ایمان لاتے ہیں۔جہاں اپنی ذات کا تقاضا غیب سے ٹکرائے وہاں غیب کو چھوڑ دیتے ہیں اور اپنی ذات کو تر جیح دے دیتے ہیں۔غیب پر ایمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ جو نظر نہیں آرہا ، ایک معنی یہ ہے بہت سے معانی ہیں ،مگر ایک یہ معنی ہے کہ اللہ جو دکھائی نہیں دے رہا اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ دکھائی دینے والی چیزوں پر اس غیب کو ترجیح دیتے ہیں اور جو نظر آ رہا ہے اس پر جو نظر نہیں آرہا اس کو فوقیت دیتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لانے والے ہیں اور ان کے لئے ذلِكَ الْكِتُبُ کا ہونا شرط ہے وہ کتاب جس میں شک کوئی نہیں۔پس قرآن کریم جو شک دور کرتا ہے وہی شک ہیں جو خدا کی ذات سے دور کئے جاتے ہیں اور غیب پر ایمان کے لئے ان شکوک کا دور ہونا لازم ہے اور اس کی چابی خدا تعالیٰ نے قرآن میں رکھ دی ہے۔پس یہ آیت مسلسل ایک مضمون کو آگے بڑھا رہی ہے۔