خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 496
خطبات طاہر جلد 16 496 خطبہ جمعہ 4 / جولائی 1997 ء میں گزاریں گے۔کون ہے جو اپنے گھر کو اس طرح لوگوں کے لئے کھلا چھوڑ سکتا ہے اور کون ہے جو جانا پسند کرے گا کیونکہ اللہ کے گھر تو کوئی پابندی نہیں، ہر ایک کے لئے برابر ہے۔پس اس پہلو سے ایسی آبادیوں میں جہاں آٹھ دس پندرہ احمدیوں کے گھر ہوں وہاں ضرور کچھ نہ کچھ مسجد کا کام کریں اور ابتداء اس کی زمینیں لینے سے ہو سکتی ہے۔بہت بڑی زمینوں کی ضرورت نہیں جتنی توفیق ہے لے لیں اور مسجد کے تعلق میں یاد رکھیں کہ خدا پھر خود توفیق بڑھایا کرتا ہے۔ایک دفعہ شروع کر دیں پھر آگے اس کو انجام تک پہنچانا یہ اللہ کا کام ہے مگر ہرمسجد کونمازیوں سے بھرنا چاہئے ہر مسجد میں پانچ وقت نماز ہونی چاہئے۔اگر سارے مرد کام پر چلے جائیں تو عورتیں بھی جا کے مسجد کو آباد کر سکتی ہیں۔عورتوں کا مسجد میں جانا منع نہیں ہے۔ان پر فرض عائد نہیں کیا گیا کیونکہ انہوں نے دوسرے کام کرنے ہیں مگر بسا اوقات جنگوں کے زمانوں میں، جہاد کے وقت جب مرد کوئی کام نہ کر سکیں تو عورتوں کو بلایا جاتا ہے تو مسجدوں کو آباد کرنا ہے اگر مرد کسی وجہ سے، مجبوری کی وجہ سے نہ کر سکیں تو عورتیں جائیں اور مسجدوں کو آباد کریں لیکن اس میں ایک شرط ہے کہ جب غیر آتا ہے تو پھر عورت کے لئے با پردہ ہونا ضروری ہے۔پس اس پہلو سے یہ احتیاط لازم ہے کہ اگر عورتوں کو مسجد میں جانا پڑے تو الگ ایسی جگہ نماز پڑھیں جہاں غیر مردوں کا آنا جانانہ ہو اور اس کے لئے ہم نے مساجد میں پردے لٹکانے کا انتظام کیا ہوا ہے، کم سے کم مسجد تو آباد ہو جائے گی لیکن پردے میں خواتین جا کے نماز پڑھیں اگر کوئی مرد اتفاقاً آ جاتا ہے تو وہ دوسری کھلی جگہ جا سکتا ہے تو مسئلے کو اگر مسئلہ سمجھا جائے تو اسے سلجھانے کے کئی رستے نکل آیا کرتے ہیں لیکن ایک مسئلہ بنے ہی نہ سوال ہی نہ اٹھے تو اسے حل کیسے کریں گے۔پس قرآن کریم کی اس ہدایت کی طرف توجہ دیں کہ قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے تقویٰ کی ضرورت ہے اور تقویٰ کے بغیر قرآن کریم کے مقاصد حل نہیں ہو سکتے اور تقویٰ کا بہت گہرا تعلق مسجد سے ہے، اتنا گہرا کہ مسجد کے بغیر انسان کو تقویٰ آتا نہیں اور متقی کے بغیر مسجد کو زینت نہیں ملتی۔قرآن کریم نے اس مضمون کو بہت کھول کے بیان فرمایا ہے کہ مسجدوں میں جاؤ تو اپنی زینت یعنی تقویٰ کو ساتھ لے کے جاؤ اگر بغیر زینت کے جاؤ گے تو مسجد ویران دکھائی دے گی جہاں بظاہر متقی ہوں گے، بظاہر نمازی ہوں گے مگر حقیقت میں اللہ کے نزدیک وہ مسجد ویران ہوگی۔یہ جو ویرانی کا آبادی کے ساتھ