خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 495
خطبات طاہر جلد 16 495 خطبہ جمعہ 4 جولائی 1997ء فائدہ نہیں اور پھر ایسی مسجدیں بڑے اجتماعات کے کام تو آسکتی ہیں جیسے یہ مسجد آتی ہے مگر روز مرہ ہمارے مختلف جگہ پھیلے ہوئے نمازیوں کے کسی کام نہیں آسکتیں۔اس وجہ سے میں نے ہدایت کی ہے کہ آپ سب کو آج تاکید کر رہا ہوں کہ اگر اس ہدایت پر عمل نہ ہو تو آپ عمل کروائیں ،نگران ہوں اس بات کے کہ اس ہدایت پر لازما عمل ہوتا ہے۔جہاں جہاں چند احمدی ہیں یعنی دو چار ، دس گھر احمدیوں کے ہیں ان کے پاس کوئی چھوٹی سی جگہ بھی اگر خرید لی جائے اور وہاں ایک جھونپڑا بھی بن جائے تو یہ وہ مسجد ہے جسے خدا پیار سے دیکھے گا کیونکہ یہ مسجد روزانہ آباد ہوگی ، روزانہ اردگرد کے گھر وہاں جایا کریں گے اور چار مسجدیں جو بہت عظیم الشان ہوں سارے ملک میں شور پڑ جائے کہ جماعت احمدیہ نے اتنی بڑی مساجد بنائی ہیں مگر گنتی کے دو چار نمازی جاتے ہوں ان مسجدوں کو خدا کیسے پیار سے دیکھ سکتا ہے کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا اور ایسے لوگوں کی تربیت کی کوئی ضمانت نہیں ہے جن کا دل مسجدوں میں نہیں اٹکتا۔پس لازم ہے کہ جہاں تک ممکن ہواذانوں کی آوازوں کی حد تک جتنے احمدی موجود ہیں کہیں وہاں ایک مسجد کی طرف توجہ دیں۔اس سلسلے میں کچھ میں نے انتظامی مسائل حل کرنے کے لئے امیر صاحب کو متوجہ کر دیا ہے لیکن آپ اپنی اپنی جگہ اگر اس شعور کو بیدار کریں گے اور احساس کریں گے تو اللہ تعالیٰ توفیق دے دے گا۔مسجدوں کے سفر میں اللہ تعالیٰ ہمیشہ غیر معمولی نصرت فرمایا کرتا ہے۔چند گھروں کو اگر یہ توجہ ہو کہ ہم نے اپنے درمیان ایک مسجد بنانی ہے تو اللہ کے فضل کے ساتھ ان کو توفیق مل ہی جایا کرتی ہے۔مگر یاد رکھیں کہ اب اس بات کو بھلا دیں کہ گھروں کو مسجد میں بنایا جائے یعنی وہاں لوگوں کو بلایا جائے اور یہی کافی ہو یہ ہرگز کافی نہیں ہے۔آنحضرت میہ کے زمانے میں گھروں کی مسجد تو گھر والوں کے لئے ہوا کرتی تھی اور محلے کی مسجد الگ بنتی تھی جہاں ہر آدمی جب چاہے جاسکے۔یہ جو فرق ہے اس کو لوگ ملحوظ نہیں رکھتے۔نماز کو قائم رکھنے کی خاطر اس خیال سے کہ عبادت جاری رہے اس قسم کی ہدایتیں میں دیتا رہا ہوں کہ اور کچھ نہیں تو بعض گھروں کے کمروں کو مسجد بنالو لیکن وہ کمرے مسجد کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے کیونکہ مسجد کے تقاضوں میں یہ بات داخل ہے جب چاہے خدا کا بندہ ان میں داخل ہو جائے اور اپنے رب کو پکارے اب کسی کے گھر کوئی کیسے وقت بے وقت پہنچ سکتا ہے۔بعض لوگوں کو آدھی رات کو دل میں غیر معمولی جذبہ اٹھتا ہے کہ چلو مسجد جا کے آج رات مسجد صلى الله