خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 494
خطبات طاہر جلد 16 494 خطبہ جمعہ 4 / جولائی 1997 ء کے تعلق میں یہ بات یاد دلاتا ہے کہ قرآن کریم میں کچھ چیزوں سے بچنے کا حکم ہے، کچھ رستوں کو اختیار کرنے کا حکم ہے اور بنیادی معنوں میں تقویٰ کا یہی معنی ہے کہ پتا ہو کہ کہاں سے بچنا ہے اور کس رستے پر قدم بڑھانے ہیں۔تقویٰ کے نتیجے میں انسان قرآن کریم پر جب غور کرتا ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی عطا ہوتی ہیں چنانچہ اسی مضمون کو قرآن کریم نے یوں بیان فرمایا لَّا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة: 80) کہ ہاتھ تو بظاہر لوگ لگاتے ہیں لیکن سوائے ان کے جن کو خدا پاک کرے کوئی اس کتاب کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔تو دیکھو دونوں مضمون ایک ہی ہیں اور مختلف رنگ میں ایک ہی بات آپ کو سمجھائی گئی ہے کہ قرآن کریم کے ترجمے کے ساتھ پڑھنے کی طرف ساری جماعت کو متوجہ ہونا چاہئے کوئی بھی ایسا نہ ہو جس کے پاس سوائے اس کے کہ شرعی عذر ہو جو روزانہ قرآن کریم کی تلاوت سے محروم رہے۔تمام بچوں کو اس راہ پر ڈالیں۔دیکھیں جب سکول کے لئے وہ چلتے ہیں تو آپ کتنی محنت ان پر کرتے ہیں۔مائیں دوڑتی پھرتی ہیں ناشتہ کراؤ ، منہ ہاتھ دھلاؤ، بستے ٹھیک کرو اور قرآن کریم کی طرف محنت نہیں ہے۔یہ ایک دن کا سفران کا سکول کی طرف ایسا ہے جس کے لئے آپ کی ساری توجہ مبذول ہو جاتی ہے اور ہمیشہ کا سفر جس میں آئندہ سفر کی تیاری کرنی ہے یعنی مرنے کے بعد اس کی طرف توجہ نہیں ہے۔مسجدیں بنانا اچھی چیز ہے مگر مسجدوں کے لئے نمازی بنانا ضروری ہے۔اگر مسجدیں بنائیں گے اور نمازی نہیں بنائیں گے تو اس کا کیا فائدہ۔میرے علم میں یہاں ایسی مساجد ہیں جہاں دو نمازیں ہوتی ہیں۔پانچ ہونی چاہئیں دو کیوں ہوتی ہیں۔ان مسجدوں کا اس کے سوا پھر کیا فائدہ کہ دنیا کو دکھانے کے لئے کہ ہم نے ، جماعت احمدیہ نے ایک بڑی مسجد بنالی ہے دکھانے کے لئے ایک عمارت کا حسن ہے اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔اس لئے میں نے امیر صاحب کو رستے میں بھی بار بار تاکید کی ، پھر تاکید کرتا ہوں اور آپ سب کو تاکید کر رہا ہوں کہ مسجدوں کی بڑائی کی طرف ، ان کی ظاہری عظمتوں کی طرف ، ان کے ظاہری حسن کی طرف اگر تو جہ اس لئے دی جائے کہ نمازی تو آتے ہیں مزید یہ بھی ہو جائے تو کوئی حرج نہیں، پھر کوئی نقصان نہیں لیکن اگر مسجدوں میں نمازی نہ ہوں تو ہزار ان کو آراستہ کر دیں ان مساجد کا کوئی