خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 490 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 490

خطبات طاہر جلد 16 490 خطبہ جمعہ 4 جولائی 1997 ء ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس ”وہ میں بہت سے معانی مضمر ہیں۔ایک تو یہ کہ انسان کو یہ وہم ہے کہ وہ قرآن کریم کو از خود پاسکتا ہے۔سامنے پڑی ہوئی کھلی کتاب ہے اور اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے وہ کتاب ہے یعنی تم سے دور ہے اور تمہارے قریب آ سکتی ہے مگر کچھ شرطیں ہیں جو پوری کرنی ہوں گی اور پھر ذلک میں اشارہ گزشتہ پیش گوئیوں کی طرف بھی ہے کیونکہ تمام انبیاء نے مختلف رنگ میں آنے والے رسول حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ اور آپ پر نازل ہونے والی عظیم کتاب کی خوشخبری دی تھی الکتب سے مراد وہ کتاب ہے جو ہمیشہ سے جس کا وعدہ دیا گیا ہے اور ہمیشہ سے قومیں اس کا انتظار کر رہی تھیں اور آج وہ ہمارے سامنے ہے۔ذلِك الکتب میں ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ تم سے دور تو ہے لیکن قریب آسکتی ہے۔لَا رَيْبَ فِيهِ اس بات میں کوئی شک نہیں۔لاریب کے ساتھ جب ذلِک کو پڑھیں تو یہ معنی ہوگا کہ وہ کتاب تو ہے مگر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ هُدًى لِلْمُتَّقِینَ یہ ہدایت ہے متقیوں کے لئے اور لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ کا ایک معنی یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے مگر ان متقیوں کے لئے جن کے لئے ہدایت بنتی ہے۔بغیر تقویٰ کے اس کتاب کو پڑھو گے تو کئی قسم کے شکوک پیدا ہوتے رہیں گے۔مگر یہ عجیب کتاب ہے جو شک سے پاک ہونے کے باوجود غیر متقیوں کے دلوں میں شک پیدا کرتی ہے اور متقیوں کے دلوں کو شکوک سے پاک کر دیتی ہے۔پس اس مختصر سے کلام میں جس میں ایک آیت ابھی پوری نہیں ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے کتنے مضامین بیان فرمادے۔ایک امر بہر حال یقینی اور قطعی ہے کہ جو کچھ بھی ہم نے ہدایت پانی ہے اسی کتاب سے پانی ہے۔پس سب سے پہلے تو عبادت کے تعلق میں کلام الہی کا پڑھنا ایک بنیادی امر ہے جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرتا ہوں۔جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے بہت کم ایسے خاندان ہیں جن میں روزانہ تلاوت ہوتی ہو۔شاذ کے طور پر ایسے بچے ملیں گے جو صبح اٹھ کر نماز سے پہلے یا نماز کے بعد کچھ تلاوت کرتے ہوں اور یہ جائزہ فیملی یعنی خاندانوں کی ملاقات کے دوران میں نے لیا اور اکثر بچوں کو اس بات سے بے خبر پایا۔وہ تربیت کے مسائل جن پر میں گفتگو کرتا رہا ہوں وہ سارے بے حقیقت ہو جاتے ہیں اگر اس بنیادی حقیقت کی طرف توجہ نہ کریں کہ ہماری نسلوں کو اگر سنبھالنا ہے تو قرآن کریم نے سنبھالنا ہے اور قرآن کریم سے دو باتیں لازم ہیں، ہدایت ہے مگر نہیں بھی ہے۔ہدایت ان لوگوں