خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 489
خطبات طاہر جلد 16 489 خطبہ جمعہ 4 جولائی 1997ء تلاوت قرآن کریم کی عادت ڈالنا اور اس کے معانی پر غور سکھانا یہ ہماری تربیت کی بنیادی ضرورت ہے ( خطبہ جمعہ فرمودہ 4 / جولائی 1997ء بمقام بیت الاسلام ،ٹورنٹو۔کینیڈا) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ کی تلاوت کی: المرة ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّارَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ) پھر فرمایا: ( البقرة : 2 تا 4 ) الحمد للہ ، آج اس خطبہ کے ساتھ میرا مختصر دورہ کینیڈا اختتام پذیر ہوگا۔اس عرصے میں مجھے یہاں بھی بہت سے خاندانوں سے ملنے کا موقع ملا اور بالعموم کثرت سے جماعت کو دیکھنے کا موقع ملا اور گزشتہ روز جب میں آٹو وا اور مانٹریال کے سفر پر تھا تو وہاں بھی کثرت سے جماعتوں سے ملاقات ہوئی اور ان کے حالات کو قریب سے دیکھا۔اس خطبہ میں خصوصیت کے ساتھ میں نے عبادت کا مضمون چنا ہے اور اسی لئے میں نے وہ آیات تلاوت کی ہیں جو قرآن کریم کی سورۃ بقرہ کی پہلی آیات ہیں۔سب سے پہلے اللہ تعالیٰ قرآن کریم کا تعارف ان الفاظ میں فرماتا ہے۔ذلِكَ الْكِتُبُ لَا رَيْبَ فِيهِ یہاں یہ نہیں فرمایا کہ یہ کتاب ہے بلکہ ذلِكَ الْكِتب فرمایا، وہ کتاب ہے۔حالانکہ بظاہر قرآن کریم ہر پڑھنے والے کے سامنے ہوتا ہے اور عام انسان کا کلام ہوتا تو کہتا یہ کتاب