خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 487 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 487

خطبات طاہر جلد 16 487 خطبہ جمعہ 27 جون 1997 ء سورج ڈوبنے سے پہلے واپس آجاؤ کیونکہ سورج ڈوبنے سے مراد زندگی کے سورج کا ڈوبنا ہے اس کے بعد پھر واپسی کا کوئی وقت نہیں رہتا۔تو سورج ڈوبنے سے پہلے اپنے حقیقی مالک کی طرف واپس آجاؤ۔وہ سامان جو اونٹ نے لا دا ہوا ہے وہ انسان نے بھی لا دا ہوا ہے اور خدا کو خوشی تب ہوتی ہے جب یہ سامان خدا تک واپس پہنچ جائے، جبکہ اس بندے کا اپنا اختیار تھا کہ اسے واپس کر دے پس مرنے سے پہلے جو خدا کا ہے وہ اسے دے دو اور اس میں اللہ تعالیٰ کو یہ خوشی محسوس ہوگی وہ ہمیشہ کے لئے یعنی دائمی طور پر تمہاری خوشیاں بن جائیں گی۔پس اللہ کرے ہمیں اس کی توفیق ملے ، ہم لوگوں کو اس طرح کامیابی کے ساتھ خدا کی طرف بلائیں کہ وہ محسوس کرنے لگیں کہ خدا ہم سے راضی ہو رہا ہے کیونکہ یہ خوشی جو اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے یہ کوئی آسمانی خوشی ایسی نہیں جس کو آپ محسوس نہ کر سکیں، اس بات کو بھی دل سے نکال دیں۔جب دور سے آتے ہوئے اونٹ کو وہ شخص دیکھتا ہے جس کی مثال دی جارہی ہے اونٹ اس کو دیکھ رہا ہے، وہ اس کو دیکھ رہا ہے اسی طرح جب خدا کے قریب کوئی بھٹکی ہوئی روح واپس آتی ہے تو ہو نہیں سکتا کہ اس کی نظر خدا کی نظروں پر نہ ہو۔ہر قدم جو وہ اٹھاتا ہے اس میں ایک لذت محسوس کرتا ہے۔اس کا ہر قرب جو خدا کی طرف ہے اس کے لئے بے انتہا خوشیوں کے سامان پیدا کرتا ہے۔پس وہی خوشیاں ہیں جو ریفلیکٹ (Reflect) ہو رہی ہیں خدا میں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں کوئی خوشیاں محسوس نہیں کیا کرتا۔پس اللہ کرے ہمیں یہ توفیق ملے ، ہم اپنی زندگیوں کی کایا پلٹ دیں، ایک ایسی جماعت بن کر ابھریں جس کے نتیجے میں ہمارے سفر تیزی کے ساتھ ہوں ، ہم گھنٹوں کے سفرلمحوں میں کریں، ہم ہفتوں کے سفر گھنٹوں میں کریں، ہم مہینوں کے سفر دنوں سے کم عرصے میں اور صدیوں کے سفر سالوں میں کرنے والے ہوں۔تین سال ہی تو ہیں باقی اس صدی کے گزرنے میں اور دیکھو آپ نے کتنی لمبی مسافت طے کرنی ہے۔بہت دیر سوئے رہے ہیں اب اٹھے ہیں تو سورج ڈوبنے والا ہے اور سفر باقی ہے۔پس زندگی کا سورج ڈوبنے سے پہلے یہ سفر اختیار کریں اور اگر سورج ڈوبنے کے خیال سے اس خطرے سے کہ ہم کہیں منزل نہ کھو بیٹھیں آپ نے سفر کیا اور محنت کی اور کوشش کی تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جس قدم پر بھی آپ مردہ ہو کر گریں گے ، جس قدم پر بھی آپ جان دیں گے اسی قدم کو