خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 484 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 484

خطبات طاہر جلد 16۔484 خطبہ جمعہ 27 / جون 1997 ء پس اپنے گردو پیش نظر ڈالتے ہوئے اپنے اندر صداقت کی طاقت پیدا کریں اور صداقت ایک بہت ہی عظیم الشان چیز ہے اس کے ذریعہ کمزوروں میں طاقت آ جاتی ہے۔وہ لوگ جن کی باتیں عام اثر نہیں دکھاتیں جب وہ بچے ہو جائیں تو علم سے بہت بڑھ کر ان کی سادہ باتیں دنیا پراثر انداز ہوں گی۔پس آپ سچے ہو کر ایک ایسی سوسائٹی اس ملک میں بن جائیں جو ہر لحاظ سے دنیا سے جا ممتاز ہو۔آپ کے اندر صداقت کی روشنی ہو اور صداقت اپنی ذات میں قناعت بھی عطا کرتی ہے۔یہ بات ہے جو لوگ بھول جاتے ہیں کہ حقیقت میں انسانی ضرورتیں پورا ہونے کا جو تصور ہے وہ ایک نسبتی چیز ہے۔آپ کو جھوٹ بول کر ، شیطان کی عبادت کر کے دنیا مل بھی جائے تو دل کی آگ تو نہیں مجھے گی، اس سے وہ اور زیادہ بھڑ کے گی۔آپ کی خواہشات کو دل کی آگ اور بھی زیادہ بھڑ کائے گی یا خواہشیں دل کی آگ بھڑکائیں گی اور ایسے لوگ بدکتے چلے جاتے ہیں، دور ہٹتے چلے جاتے ہیں اور بے چین رہتے ہیں لیکن جب موت آتی ہے تو پھر ان کو محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی ضائع کر دی۔سچائی ایک طمانیت بخش چیز ہے۔سچائی سلامتی ہے۔وہ جو سچے ہیں وہ غریب ہو کے بھی خوش رہتے ہیں۔ان کی سادگی میں بھی بڑی نعمتیں ہیں اور یہ تجربے کی بات ہے تجربہ کر کے دیکھیں تو آپ کو سمجھ آئے گی۔جو کچھ ہے وہ ہو جائیں جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اسے خوشی سے قبول کر لیں جو مزید لینا ہے اس کی خاطر محنت کریں، حکمت سے کام لیں ضرور توجہ دیں مگر بھروسہ خدا پر رکھیں اور پھر اگر وہ دعا قبول نہیں کرتا تو ہر گز دل میں کسی قسم کی سرکشی کو داخل نہ ہونے دیں کیونکہ اکثر لوگ اکثر لوگ نہیں تو کم سے کم کچھ ایسے ضرور ہیں جو سوال کرتے ہیں جی آپ کہتے ہیں دعائیں قبول ہوتی ہیں ہم نے تو دعا کی کوئی نہیں قبول ہوئی۔ہم نے تو دعا کی کہ ہمیں وہ رو پیٹل جائے ، وہ روپیل جائے، وہ جائیداد مل جائے ، وہ مکان مل جائے ، وہ کا مل جائے، کچھ بھی نہیں ہوا۔تو جن کی دعائیں اپنی غرض سے وابستہ ہیں جو اپنی انانیت کے لئے دعا کرتے ہیں اور اللہ کی محبت سے خالی دعائیں کرتے ہیں ان کو کچھ بھی نہیں ملے گا کیونکہ وہ دھوکے میں ہیں کہ خدا کو دھو کہ دیا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُخْدِعُونَ اللهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا ۚ وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ (البقرة: 10 )۔ایسے بڑے بے وقوف ہیں دنیا میں وہ سمجھتے ہیں