خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 483 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 483

خطبات طاہر جلد 16 483 خطبہ جمعہ 27 جون 1997 ء ہے جس کو آپ نظر انداز کر دیتے ہیں اور پھر نقصان اٹھاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اب مغربی دنیا میں کثرت سے پھیلنے کے لئے جہاں اور باتوں کی ضرورت ہے وہاں سچائی پر قائم ہونے کی ضرورت ہے۔کئی لوگ شکایتیں کرتے ہیں کہ ہم تو بہت کوشش کر چکے مگر پھل نہیں لگتا اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جیسا فرمایا سچوں کے منہ اور ہوتے ہیں اور جھوٹوں کے منہ اور ہوتے ہیں۔وہ تبلیغ میں بچے بھی ہوں اور اپنی زندگی میں جھوٹے ہوں تو ان کو پھل نہیں لگیں گے۔اس لئے دل کی سچائی ضروری ہے۔ہر وہ چیز جو خدا کی راہ میں آپ نے حاصل کرنی ہے وہ دل کی سچائی کے بغیر آپ کو نصیب نہیں ہوسکتی۔پس بجائے اس کے کہ میں زیادہ تفاصیل میں جا کے آپ کو بتاؤں کہ یہ کرو اور وہ کرو اور میں بتا بھی چکا ہوں مختلف مواقع پر اس مضمون پر تفصیل سے روشنی ڈال چکا ہوں مگر آج کے خطاب کے ذریعہ میں آپ کو اور آپ کے حوالے سے ساری دنیا کو جھوٹ کے خلاف جہاد کے لئے آواز دیتا ہوں لیکن یہ آواز ہر سننے والے کے دل پر اثر کرے تو اس کا فائدہ ہے۔اگر آپ کے دل میں حرکت نہیں پیدا کرتی تو پھر اس آواز کا کوئی بھی فائدہ حاصل نہیں۔اپنے نفس پر غور کیا کرو اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایک غور کا عذر ہمارے پاس روزانہ آتا جاتا ہے۔ہم کہتے ہیں اعوذ بالله من الشيطن الرجيم - اے اللہ ! ہم تجھ سے پناہ مانگ رہے ہیں روندے ہوئے ، دھتکارے ہوئے شیطان کی شرارتوں سے اور روزانہ دھتکارے ہوئے ، روندے ہوئے شیطان کی آوازیں آپ سنتے ہیں ان پر لبیک کہہ رہے ہوتے ہیں تو اس اعوذ باللہ کا کیا فائدہ اور اگر اس قسم کی اعوذ باللہ پڑھ کر آپ قرآن کریم پڑھیں گے تو قرآن بھی آپ کو فائدہ نہیں دے گا اور اگر اس اعوذباللہ میں کوئی شرارت داخل ہوگی عمداً آپ خدا کی باتوں کو جھٹلانے والے اور شیطان کی پناہ مانگنے والے ہوں تو پھر قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ یہی وہ قرآن ہے جو نیکوں کو تو نیکی میں ترقی دیتا ہے اور بدوں کو ان کی بدی میں بڑھاتا ہے اور ان کے دل کے زنگ کھل کر باہر آ جاتے ہیں ان کی بیماریاں پہلے سے بڑھ جایا کرتی ہیں۔تو اعوذ باللہ ہی وہ کنجی ہے جس کے ذریعے قرآن میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔اپنے نفس کے شیطان سے پناہ مانگیں، دوسرے شیطانوں سے پناہ مانگیں اور پھر قرآن کریم پڑھیں تو اللہ تعالیٰ جیسا کہ وعدہ فرماتا ہے آپ کو ضرور شفا بخشے گا۔