خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 477 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 477

خطبات طاہر جلد 16 477 خطبہ جمعہ 27 جون 1997 ء دفعہ مجھے معین ہدایتیں دینی پڑتی ہیں مثلاً جلسہ سالانہ پر کچھ منافق لوگ آجاتے ہیں تو وہ احمدی جن کے ساتھ کوئی نئے احمدی آ رہے ہوں ان کو سمجھانا پڑتا ہے کہ ان کو پہلے بتاؤ کہ یہ صاحب وہ ہیں جنہوں نے تمہارے پاس آکے یہ یہ باتیں کرنی ہیں اور ان باتوں کا جواب پہلے ہم سے لے لو کیونکہ اگر تم نے سن لیا اور اثر پڑ گیا تو تم خود پیچھے ہٹ جاؤ گے اور بظاہر تہذیب کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ہمارے سامنے باتیں اٹھاؤ گے نہیں لیکن تمہارا دل میلا ہو جائے گا۔پس لازم ہے کہ سچائی کو اس طرح پہچانیں کہ اس کے باریک سے باریک تقاضے بھی آپ پورے کرنے کی کوشش کریں اور تبلیغ کی سچائی میں یہ باتیں سب شامل ہیں۔لوگ سمجھتے ہیں تعداد بڑھانی ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اگر بتا دیا کہ ہم نے پچاس کر لئے یا سو کر لئے تو ہمیں اس سے فضیلت حاصل ہو جائے گی۔بالکل غلط خیال ہے۔یہ جھوٹ ہے۔اس قسم کی بچگانہ باتوں سے اگر وہ مجھے خوش کرنا چاہتے ہیں تو میں کبھی بھی خوش نہیں ہوا اور اگر وہ خدا کو خوش کرنا چاہتے ہیں تو ظلم ہے کہ خدا کو ایک عام سمجھ والے انسان سے بھی کم تر سمجھ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کیسے اس تعداد پر خوش ہو سکتا ہے جو تعداد اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کرے اور اللہ کی خاطر تبدیلی نہ پیدا ہو۔پس کینیڈا کی جماعتوں کو میرا پہلا پیغام تو یہ ہے کہ تبلیغ کی طرف توجہ کریں اور جس حقیقت کی طرف میں نے آپ کو متوجہ کیا ہے اس کو پیش نظر رکھیں۔آپ کی تبلیغ ہرگز ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتی اگر آپ أعوذ بالله من الشیطن الرجیم کے معنی نہ سمجھیں اور اپنے نفس کو اور اپنے نفس کے شیطان کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا نہ کر یں۔اگر آپ نے یہ نہ کیا تو پھر آپ کی زندگی ایک جھوٹ ہوگی اور کچھ بھی فیض آپ اللہ اور اللہ کے بھیجے ہوؤں سے نہیں پاسکتے اور یہ تو ایک روزمرہ کی ایکسر سائز ہے یعنی ورزش ہے ایسی ورزش ہے جس کے بغیر آپ کا روحانی قدم بن ہی نہیں سکتا ، اس میں جان نہیں پیدا ہو سکتی۔أعوذ باللہ کے تقاضے سمجھنے ہیں تو لا حول ولا قوۃ کے مضمون کے او پر بھی غور کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کوئی بھی خوف کی جگہ نہیں ہے۔حول ، خوف سے بچنے کی طاقت نہیں ہے اور کوئی بھی نعمتیں عطا کرنے والی طاقت یعنی قوت نہیں ہے۔الا باللہ مگر اللہ کے ذریعے اور جھوٹ میں خوف اور حرص دونوں اپنے اپنے رنگ میں گہرا اثر دکھاتے ہیں۔ایک طرف تو انبیاء کا پیغام ہے جس میں