خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 478 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 478

خطبات طاہر جلد 16 478 خطبہ جمعہ 27 / جون 1997 ء بشارت بھی ہے اور انذار بھی ہے۔انذار بھی ہے اور بشارت بھی ہے۔دوسری طرف شیطان کا پیغام ہے وہ بھی ایک انذار اپنے اندر رکھتا ہے، وہ بھی ایک بشارت اپنے اندر رکھتا ہے۔اس کا انذار بھی جھوٹا ،اس کی بشارت بھی جھوٹی۔وہ انذار یہ کرے گا کہ دیکھو اگر تم نے میری بات نہ مانی تو اپنی دنیا اپنے ہاتھوں سے گنوا بیٹھتے ہو اور یہ مضمون جو ہے کینیڈا میں اس لحاظ سے بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ بہت سے Immigrants ہیں، بہت سے ایسے دوست ہیں جو پاکستان میں بعض دفعہ حقیقی مظالم سے تنگ آکر بعض دفعہ اسی خوف سے تنگ آکر کہ یہ حقیقی مظالم ہمارے سر پر لٹکے ہوئے تو ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جو محض اقتصادی خرابی کے پیش نظر اس غربت سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔اب ان کے لئے یہ تینوں وجوہات اپنی اپنی جگہ ان کے لئے رزق کا جواز پیدا کرنے والی تو ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے وسعت رزق کو بھی ہجرت کا جواز قرار دیا ہے کیونکہ یہ نہیں فرمایا کہ رزق پیش نظر ہو اور جھوٹ بولو کہ ہمیں فلاں مصیبت پڑی ہوئی تھی اس لئے نکلے ہیں۔اب یہاں پہنچ کر آپ دیکھیں کتنے ہیں جو لاحول میں شیطان کی آواز سنتے ہیں اور خدا کی آواز نہیں سنتے۔شیطان ان کو ڈراتا ہے۔وہ کہتا ہے دیکھو تم نے اگر سچ بول دیا تو مارے گئے۔سارے پیسے تم برباد کر بیٹھے ہو۔اپنی جائیداد میں بیچ آئے ہو یہاں پہنچے ہو، چھوٹے چھوٹے تمہارے بچے ہیں اگر تم نے جھوٹ نہ بولا تو تمہیں ہرگز یہ حکومت اجازت نہیں دے گی واپس جانا پڑے گا اور پہلے سے بدتر حال میں واپس لوٹو گے۔یہ شیطان کا ڈراوا ہے اور یہ ڈر اوا وقتی طور پر سچا بھی ہوسکتا ہے کیونکہ بعض دفعہ شیطان ایسے ڈراوے بھی دیتا ہے جو انسان کوشیطان پر ایمان لانے میں مدد دیتے ہیں۔چنانچہ واقعہ یہ اس کے ساتھ ہو بھی جاتا ہے اگر اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ کاش میں شیطان کی بات مان لیتا اور اللہ کی بات رد کر کے جھوٹ کا سہارا لے لیتا تو ایسا شخص ہمیشہ کے لئے ضائع ہو گیا پھر کبھی خدا اس کی نہیں سنے گا لیکن اگر وہ ابتلاء میں ثابت قدم رہے اگر وہ کوڑی کی بھی پرواہ نہ کرے جو کچھ جاتا ہے خدا کی راہ میں جائے اور سوچے کہ اس نے اللہ سے عہد کیا کیا تھا۔عہد تو یہ کیا تھا کہ میری جان ، میرا مال، میرا سب کچھ تیرے سپرد ہو گیا اب تو جانے اور جو بھی تو نے اپنے بندوں سے وعدے کئے ہیں ان وعدوں کا تو میرے حوالے سے بھی خیال رکھے یہ اب تیرا کام ہے۔جس نے یہ وعدہ کیا ہو اس کو اگر کینیڈا کی امیگریشن نہ مل رہی ہو جھوٹ کے بغیر اور وہ سب خدا سے کئے ہوئے وعدوں کو چھوڑ کر پیٹھ کے پیچھے پھینک کر یہ فیصلہ