خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 474
خطبات طاہر جلد 16 474 خطبہ جمعہ 27 / جون 1997 ء جو اپنی ذات میں جھوٹ نہیں ہیں مگر ان میں ایک مخفی جھوٹ ہے۔وہ یہ ہے کہ ہم ہر گز حرص دلا کر یا بعض سکولوں، کالجوں یا ہسپتالوں کا لالچ دے کر کسی کو احمدی بنانا نہیں چاہتے نہ بناتے ہیں۔پس وہ اس لحاظ سے جھوٹ سے کام لے رہا ہے کہ اس ذریعے کو اس نے استعمال کیا جس کی اس کو اجازت نہیں تھی اور رپورٹوں میں لکھتے وقت یہ نہیں لکھا کہ ہم نے جو ان لوگوں کو مائل کیا ہے تو یہ کہہ کہہ کے مائل کیا ہے۔اگر اشارہ بھی پہلی کسی رپورٹ میں ذکر ہوتا تو میں فوری طور پر اس مربی کو روک دیتا یا اس کو بدل دیتا یا اسے فارغ کر دیتا کیونکہ دین میں خدا کے سوا اور کسی چیز کا سودا نہیں ہونا چاہئے اور قرآن کریم یہی فرماتا ہے کہ اللہ سے اللہ کا سودا کرو۔اگر تم چاہتے ہوتو اللہ کی خاطر اپنا سب کچھ اس کے حضور پیش کر دو پھر وہ تمہارا ہو جائے گا۔اِنَّ اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبه : 111) فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے سودا کر لیا ہے اور وہ سودا خدا کا مومنوں سے ایک سودا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم یوں کرو کہ اپنی جان ، اپنے اموال سب کچھ میرے حضور پیش کر دو۔کتنا بڑا کام ہے اگر یہ سمجھ کر کوئی انسان حق کو قبول کرتا ہے یا یہ سمجھا کر کسی کوحق کی طرف بلایا جا تا ہے تو کتنے ہیں جو جواب دیں گے۔مگر ساتھ ہی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سودے کے نتیجے میں بِأَنَّ لَهُمُ الجنَّةَ یہ میرا اقرار اور وعدہ ہے کہ ان کو ضرور جنت عطا کروں گا اور یہ جنت آخرت میں نہیں اس دنیا میں بھی ملنی شروع ہو جاتی ہے۔یہ ایک اہم بات ہے۔اگر لالچ دینی ہے تو یہ لالچ دو کہ خدا کی خاطر قربانی کرو اور پھر دیکھو کو خدا تعالیٰ تمہاری قربانیوں کو کیسے قبول فرماتا ہے، کیسے کیسے تمہاری پریشانیاں دور کرنے کا انتظام کرتا ہے، تمہاری روز مرہ کی جہنم کو جنت میں تبدیل کرنے لگتا ہے۔پس اگر دین خدا کی خاطر ہے تو خدا سے وعدے ہونے چاہئیں اور لالچ جو دینی ہے وہ خدا کے حوالے سے دی جائے۔اپنے آپ کو بیچ میں سے نکال لیں کیونکہ محض پہلی بات کہہ کر خوف دلا نا حکمت کے بھی خلاف ہے اور قرآن کریم کی تعلیم کے بھی خلاف ہے یعنی قرآن کریم نے نبیوں کو بَشِيرًا وَنَذِيرًا (البقرة: 120) قرار دیا ہے۔وہ بشارت بھی دیتے ہیں اور ڈراتے بھی ہیں تو بہت سی باتوں سے ڈراتے ہیں۔ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تم ہمارے ساتھ شامل ہو گے تو تمہارے ساتھ یہ سلوک کیا جائے گا جو ہمارے ساتھ شامل لوگوں سے کیا جا رہا ہے اور اس پہلو سے بھی آنحضرت ﷺ نذیر تھے جو غیروں کو صلى الله