خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 42
خطبات طاہر جلد 16 42 خطبہ جمعہ 17 /جنوری 1997ء یاد کر لو یا تقوی اختیار کر لو۔تو یہ وقت ہے ترجمہ کرنے والوں کے پیش نظر۔وہ سمجھتے ہیں کہ منصوب کے لئے ضرور پہلے ایسا فعل تلاش کرنا چاہئے جس میں فاعل بھی مذکور ہو تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو یہ فعل ہے جس میں فاعل بھی ہے۔کون تقویٰ کرے؟ تم کرو۔کتنے دن؟ چند گنتی کے دن۔یہ تو غلط ہے کیونکہ تقویٰ کا تعلق تو زندگی بھر سے ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ ان منصوبی حالتوں میں فاعل کی تلاش کی بجائے اسے اور معنوں میں پڑھتا ہوں جو عربی لغت کے لحاظ سے جائز ہیں اور منصوب بعض دفعہ غیر معمولی توجہ دلانے کی خاطر کیا جاتا ہے اس میں فاعل کی تلاش کی ضرورت ہی کوئی نہیں۔جب کہیں بچوکسی چیز سے مثلاً شیر کہہ دیا جائے یا سانپ کہہ دیا جائے یا بچھو کہ دیا جائے اور یہ نہ کہا جائے کہ بچو تو اس کو منصوب کر دیا جائے یا کسی اور ایسے موقع پر جب کسی چیز کی عظمت دلانی ہو تو اسے بھی منصوب کر دیا جاتا ہے تو اس کے لئے پہلے جملے میں کسی فعل اور اس سے تعلق رکھنے والے فاعل کی تلاش کی ضرورت نہیں ہے۔جب یہ معنی جو میں کرتا ہوں اس پہلو سے یہ مضمون یوں بنے گا لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ دیکھو تقویٰ کا فائدہ تمہیں اس سے پہنچے گا اور جہاں تک محنت کا تعلق ہے گنتی کے چند دن ہی تو ہیں۔کیسا اچھا سودا ہے۔چند روزہ محنت کرو گے تو ہمیشہ ہمیش کی فلاح پا جاؤ گے اور تقویٰ حاصل ہوگا جو پھر تمہارا ساتھ نہیں چھوڑے گا کیونکہ تقویٰ عارضی نیکی کے لئے استعمال ہو ہی نہیں سکتا۔تقویٰ ایک مستقل چیز ہے جو انسان کے دل میں بس جاتی ہے اور ترقی کرتی رہتی ہے تو لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ کا ایک معنی یہ ہے کہ تا کہ تم تقویٰ میں ترقی کرتے چلے جاؤ اور ہر رمضان تمہارا تقویٰ بڑھا کر جائے ، ہر رمضان تمہیں خدا سے پہلے سے زیادہ قریب کر دے۔یہ مقصد ہے رمضان کا اور اسی پہلو سے تمام گزشتہ مذہبی قوموں میں روزے فرض کئے گئے اور ہے کیا ؟ آیا ما مَّعْدُو دَتِ چند گنتی کے دن ہیں ان میں جو زور لگانا ہے لگالو۔فوائد زندگی بھر کے اور محنت چند دنوں کی۔پھر فرمایا فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ آخر اور پھر سہولتیں بھی ایسی دے دی ہیں کہ یہ مہینہ مشقت کا مہینہ نہیں رہتا۔فرمایا تم میں مریض بھی ہوں گے، سفر پر بھی ہوں گے ان کے لئے ہماری ہدایت یہ ہے کہ وہ دوسرے ایام میں روزے رکھ لیں۔ایک مہینے میں روزے رکھنا فوائد اپنے ساتھ رکھتا ہے وہ ماحول پیدا ہو جاتا ہے جو الگ الگ