خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 41 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 41

خطبات طاہر جلد 16 41 خطبہ جمعہ 17 /جنوری 1997ء کا جس کے لئے میں آج آپ کو متوجہ کر رہا ہوں بعض لوگ جانتے ہیں کنکوے اڑائے جاتے ہیں مگر بسنت میں جو کنکووں کے اڑنے کا عالم ہے وہ چیز ہی اور ہو جاتی ہے۔پس خدا کی یادوں کے لئے یہ مہینہ بسنت بن گیا ہے اور بار بار ذکر الہی کے جو گیت ہیں وہ گھر گھر سے بلند ہوتے ہیں۔مختلف وقتوں میں اٹھتے ہیں، صبح شام تلاوت کی آواز میں آتی ہیں اور طرح طرح سے انسان اللہ کی یاد کو زندہ اور تازہ اور دائم کرنے کی کوشش کرتا ہے تا کہ جو یاد آئے وہ پھر ہاتھ سے نکل نہ جائے۔پس اس مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ رمضان کا مقصد کھیل تماشہ نہیں ہے۔محض بھوکا رہنا، محض افطاری کر لینا یہ نہیں ہے۔ایک مقصد ہے تا کہ تم تقویٰ میں ترقی کرو اور اللہ تعالیٰ کا پہلے سے بڑھ کر دل میں خوف پیدا ہو اور پھر وہ ہمیشہ باقی رہے۔اس کے بعد فرمایا ہے۔اَيَّامًا مَّعْدُودَت اس تعلق میں مختلف ترجمہ کرنے والے اور مفسرین اس کا جب فاعل ڈھونڈتے ہیں تو ان کو ایک دقت پیش آتی ہے آیا مَّا مَّعْدُودَت منصوب ہے۔یعنی منصوب سے مراد یہ ہے جیسے کسی کو کہا جائے کہ فلاں چیز کو فلاں جگہ پھینک آؤ تو جس چیز کو پھینکیں گے وہ مفعول ہو جائے گی۔وہ جگہ جہاں پھینکیں گے وہ مفعول ہو جائے گی تو فعل کا کرنے والا بھی تو کوئی ہونا چاہئے۔اس لئے جب بھی ایسی علامتیں ظاہر ہوں جن کا تعلق مفعول ہونے سے ہے تو انہیں منصوب حالتیں کہا جاتا ہے، نصب کی حالت اور اس کا ایک فاعل تلاش کیا جاتا ہے۔تو آیا ما مَّعْدُودَت کو قرآن کریم میں نصمی حالت میں پیش فرمایا گیا ہے۔چند گنتی کے دن اس پر جو ترجمہ کرنے والے فاعل تلاش کرتے ہیں تو کہتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ روزے رکھو چند گنتی کے دن لیکن روزے رکھو“ کو حذف سمجھتے ہیں جب کہ اس سے پہلے جو فعل گزر چکے ہیں اگر ان کے ساتھ اس کو ملایا جائے اور مفعول بنایا جائے تو پھر معنی بالکل غلط ہو جائیں گے۔وہ اس طرح بنیں گے پھر کہ تم پر فرض کر دیئے گئے ہیں روزے جیسے کہ پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے۔لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ، اَيَّا مَا مَعْدُودَتٍ کیونکہ فعل تقویٰ کا ہے صرف تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو گنتی کے چند دن۔اب یہ تو مقصود ہوہی نہیں سکتا قرآن کریم کا کہ روزے فرض کئے گئے ایسے کہ پہلی قوموں پر بھی ہر جگہ فرض کر دیئے گئے تھے، اتنی عظیم الشان چیز ہے صرف اس لئے کہ تم چند گنتی کے دن خدا کو