خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 470 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 470

خطبات طاہر جلد 16 470 خطبہ جمعہ 27 جون 1997 ء که انسان حیران رہ جاتا ہے۔اب ایسے شخص کی مثال میں نے دی ہے نہ جماعت کا نام لیا ہے، نہ اس شخص کا کہ اس مثال پر بہت سے لوگ اگر غور کریں تو شاید اپنے آپ ہی کو مخاطب سمجھیں کیونکہ بہت سی جماعتوں میں ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود میری بات سننے والے خود نصیحت نہیں پکڑیں گے کیونکہ ان کو دنیا کے شیطان تو صاف دکھائی دے دیتے ہیں۔اگر گھر کا کوئی جھگڑا ہوا ہے، بیوی نے کوئی زیادتی کی ہے تو وہ انہیں صاف دکھائی دے گی بلکہ نہ بھی کی ہو تو دکھائی دے گی اور رشتے داروں نے کوئی زیادتی کی ہو، کسی شادی بیاہ کے موقع پر یاغی کے موقع پر وہ حق ادا نہ کیا ہو جو سمجھتے ہیں انہیں کرنا چاہئے تو بعض اس پر سالہا سال تک جھگڑا چلاتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جن کے متعلق اطلاع ملتی ہے اور آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ بھائی نے بہن سے بات نہیں کی کیونکہ کسی ایسے موقع پر اس نے سمجھا کہ بہن کو میری طرف داری کرنی چاہئے تھی اور سالوں اس سے بات نہیں کی۔ایسی ملاقات میں میں نے اس کو بتا دیا کہ آج کے بعد تمہاری یہ شکایت ملی تو پھر میں بھی تم سے اسی طرح سالوں بات نہیں کروں گا۔تمہارا اگر بہن سے تعلق ٹوٹا ہے تو مجھ سے بھی ٹوٹ گیا کیونکہ خدا سے ٹوٹ گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو رحمی رشتوں کا لحاظ نہیں کرتے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو اتنا اچھالتے ہیں کہ وہ ان کے درمیان دیوار میں حائل کر دیتی ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں بھی رحمان ہوں۔رحمی رشتوں سے ایک میرا بھی رحمانیت کا رشتہ ہے۔جس طرح رحم سے بچے پیدا ہوتے ہیں اسی طرح رحمانیت سے ساری تخلیق ہوئی ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یاد رکھو اگر تم چھوٹی چھوٹی باتوں پر رحمی رشتوں کا لحاظ نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارا بھی کوئی لحاظ نہیں کرے گا۔تو میں ایسے لوگوں کو سمجھاتا ہوں کہ اس میں میری طرف سے کوئی غیر معمولی زیادتی کا سوال ہی نہیں، میں تو وہی کروں گا جو اللہ کرتا ہے، جو اللہ ہم سے چاہتا ہے۔پس تم رحمی تعلقات کو کاٹو گے تو میں تم سے تعلقات کو کاٹ لوں گا اور عجیب ظلم کی بات ہے کہ یہ تو ان کو دکھائی دے دیتا ہے مگر روتی ، بلکتی بہن دکھائی نہیں دیتی۔جب ان کو اس طرح بتایا جائے تو کچھ تھوڑی سی ہوش آتی ہے کیونکہ ماں باپ کی نصیحتوں کو وہ بالکل نہیں سنتے۔تو دنیا میں جو بہت سے تعلقات بگڑنے کی وجہ ہے وہ بنیادی طور پر یہی ہے کہ اپنے نفس کا