خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 469 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 469

خطبات طاہر جلد 16 469 خطبہ جمعہ 27 جون 1997 ء کے اندر وہ شیطان بستا ہے اس کو پہچانتا نہیں۔نہیں جانتا کہ وہ کب اور کیسے کیسے اس پر حملہ کرے گا۔پس یہ وہ حقیقت ہے جس کو نمایاں طور پر جماعت احمدیہ کینیڈا کو خصوصیت کے ساتھ کیونکہ میں آج ان سے مخاطب ہوں اور سب دنیا کی جماعتوں کو پیش نظر رکھنی چاہئے۔بہت سی خرابیاں میں نے دیکھی ہیں اسی حقیقت کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں ہیں اور یہ دیکھیں کہ حقیقت میں جو روز مرہ کی زندگی میں دیکھنے والے کو دکھائی دے رہی ہوتی ہیں مگر جس کا شیطان کوئی حرکت کر رہا ہے اسے دکھائی نہیں دیتیں۔بعض دفعہ جماعتی جھگڑوں میں یہ دیکھنے میں آیا ہے ایک شخص نے نظام جماعت کی بے حرمتی کی۔کھڑے ہو کر صدر سے یا امیر سے سخت بد تمیزی سے پیش آیا اور جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا بالکل غلط ہے ایسی تو کوئی بات ہی نہیں ہوئی میں تو بڑے آرام سے ان کی باتوں کا جواب دے رہا تھا اور میرا اس میں کوئی قصور نہیں ہے اور جو دیکھنے والے تھے انہوں نے اس کا شیطان دیکھ لیا تھا۔ان سب نے یک زبان ہو کر اعلان کیا اور مجھے خطوط کے ذریعہ بتایا کہ یہ الزام بالکل درست ہے۔اس شخص نے انتہائی بدتمیزی سے کام لیا یہاں تک کہ ہمارے لئے مشکل ہو رہا تھا کہ ہم ضبط کریں اور اسے اٹھا کر مسجد سے باہر نہ پھینک دیں اور وہ اصرار کر رہا ہے اور کہتا ہے اس جماعت میں تو پھر انصاف ہی کوئی نہیں۔بالکل غلط بات ہے مجھے یہ الزام لگایا جا رہا ہے، میں اپنے نفس کو جانتا ہوں میں نے تو ایسی کوئی بات کی نہیں۔میں تو ایسی بات کر ہی نہیں سکتا۔تو دیکھو قرآن کریم کی بات کتنی سچی ہے کہ انسان شیطان کو جانتے ہوئے بھی نہیں جانتا۔اس کے اندر بستا ہے پھر بھی نہیں پہچانتا اور جب وہ اندر سے آواز دیتا ہے تو وہ نہیں سمجھتا کہ کسی اور کی آواز ہے۔پس اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم کو غور اور عقل سے پڑھا کریں اور سوچا کریں کہ کس شیطان رحیم سے آپ نے پناہ مانگی ہے۔وہ لوگ جو بیرونی طور پر آپ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں کیے ممکن ہے کہ آپ انہیں دیکھ نہ سکیں ، آپ تو ہمیشہ ان سے بیچ بیچ کر چلتے ہیں۔پس ان سے پناہ میں آنا کوئی خاص نیکی کی بات نہیں ، وہ تو ایک قطعی ، فوری ایسی ضرورت ہے جو آپ کے طبعی تقاضوں سے پیدا ہوتی ہے اور کسی نیک اور بد کا سوال نہیں ہر شخص خواہ دہر یہ بھی ہو ایسے شیطان سے جو بیرونی شیطان اس پر حملہ آور ہواس سے پناہ مانگتا ہے۔کبھی خدا کے لئے مانگتا ہے تو انسان کی پناہ مانگتا ہے گویا پہچانتا ضرور ہے۔وہی شیطان ہے جودل کا شیطان، جو نفس کا شیطان ہے جسے انسان دیکھ نہیں سکتا اور اسی وجہ سے بعض دفعہ ایسی باتیں ہوتی ہیں