خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 468 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 468

خطبات طاہر جلد 16 468 خطبہ جمعہ 27 / جون 1997 ء مقامی تقاضوں ہی تک بات ختم کی جائے۔مقامی تقاضے وقتی طور پر ابھر کر سامنے آتے ہیں مگر ویسے ہی تقاضے دنیا میں اور جگہ بھی ہیں۔چنانچہ ابھی کل پر سوں کی ڈاک ہی میں ایک خط ملا تھا جو ایک غیر احمدی دوست کا جو احمدی ہوئے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ میں تو جب بھی خطاب کرتا ہوں تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے مخاطب کر کے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خطاب کر رہا ہوں یعنی جو مسائل دنیا کے احمدیوں کے میں بیان کر رہا ہوتا ہوں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ گویا مجھے ان کے حال کی خبر ہے۔دراصل کسی کے حال کی خبر سوائے خدا کے کسی کوخبر نہیں اور میں چونکہ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق انسانی نفسیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بات کرتا ہوں اور یہ سب دنیا میں قدر مشترک ہے اس لئے بسا اوقات ہر سننے والا یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ گویا میں اسی سے مخاطب ہوں۔پس آج کے خطاب میں اگر چہ میں جماعت احمد یہ کینیڈا کو بطور خاص مخاطب ہوں مگر گوئٹے مالا لا زمی اس میں شامل ہے اور دیگر جماعتیں بھی۔سب سے پہلے میں آپ کو ایک ایسی بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو روز مرہ ہم کہتے ہیں اور کرتے نہیں اور یہ عمل یعنی یہ فعل کہ انسان کہے اور کرے نہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت ہی نا پسندیدہ باتوں میں سے ہے۔ہم جب بھی نماز کا آغاز کرتے ہیں ، جب بھی تلاوت کا آغاز کرتے ہیں تو اعوذ بالله من الشیطن الرجیم پڑھتے ہیں جس کا سیدھا سادھا مطلب یہ ہے کہ میں پناہ مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ کی شیطان رجیم سے جو دھتکارا ہوا شیطان ہے لیکن بسا اوقات انسان یہ سوچتا نہیں کہ میں کیا دعا کر رہا ہوں اور یہ شیطان ہے کون اور کہاں بستا ہے، یہ کیسے میرے پاس آئے گا کہ میں اسے دھتکاروں گا۔جو بات انسان بھول جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اکثر وہ اس سے بیرونی شیطان مراد لیتا ہے اور بیرونی شیطانوں کو ہمیشہ انسان دھتکارتا ہی ہے لیکن اندرونی شیطان کی بات نہیں کرتا اور قرآن کریم نے نمایاں طور پر سب سے زیادہ اندرونی شیطان ہی کو پیش فرمایا ہے۔فرماتا ہے کہ وہ ایسے لباس میں آتا ہے، ایسے بھیس بدل بدل کر آتا ہے، ایسی سمتوں سے آتا ہے کہ تم اسے دیکھ نہیں رہے ہوتے اور وہ تمہیں دیکھ رہا ہوتا ہے۔پھر انسان کا نفس اپنے نفس کے وجود سے واقف ہے یہ پہلی مراد ہے ان آیات کی۔شیطان نعوذ باللہ من ذالک کوئی اللہ تعالیٰ تو نہیں کہ ہر ایک چیز کو دیکھ رہا ہے اور خدا کی طرح اس دیکھنے میں اس کا شریک ہو گیا ہے مگر ہر نفس کا الگ الگ شیطان ہے جو اس کے اندر واقع ہے اور وہ اندر سے اس کو دیکھ رہا ہوتا ہے کہ وہ شخص جس