خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 461 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 461

خطبات طاہر جلد 16 461 خطبہ جمعہ 20 جون 1997 ء ہے بتائیں ہم کیا کریں۔ان کو میں نے یہ تفصیل سے تو نہیں سمجھایا مگر کسی حد تک مختصر مرکزی بات سمجھا دی کہ آپ اگر ایک بات کو نیکی سمجھ رہے ہیں تو اس کے اوپر ذاتی فخر محسوس کریں اور سوسائٹی کی کوئی پرواہ نہ کریں پھر دیکھیں کہ آپ کے دل میں کیا کیفیات پیدا ہوتی ہیں اور بلا استثی ان سب نے مجھے یہی بتا یا کسی نے جلدی کسی نے دیر کے بعد کہ اب تو ہم مؤثر ہونے لگ گئے ہیں اور سوسائٹی متاثر ہو رہی ہے اب لوگ قریب آکر ہمارے انداز سیکھ رہے ہیں۔اس ضمن میں ایک اور بات جو آپ کو سمجھانے والی ہے وہ یہ ہے کہ بعض چھوٹی چھوٹی باتوں کو آپ معمولی نہ سمجھا کریں۔میں نے کئی بچوں کو دیکھا ہے ان کے گلے میں تعویز سے لٹکے ہوئے ہیں، کسی کے کان میں بندا پڑا ہوا ہے، کسی کے بالوں کا حلیہ بگڑا ہوا ہے قریب سے رگڑے گئے ہیں بال اور اوپر سے بڑے بڑے ہیں، ٹوپی پہنیں تو لگتا ہے ٹنڈ کروائی ہوئی ہے ٹوپی اتاریں تو بڑے بڑے بال دکھائی دیتے ہیں۔ان کو سمجھانا چاہئے کہ اگر تم کچھ عرصے پہلے جب یہ فیشن نہیں تھا کسی دکان میں جاتے وہ یہ حالت تمہاری بنا دیتا تو نہ صرف یہ کہ تم نے پیسے نہیں دینے تھے اس سے بڑی سخت لڑائی کرنی تھی کہ او بد بخت تو نے کیا حال بنا دیا ہے یہ کوئی شکل ہے میری دیکھنے والی۔اب اسی شکل کو تم لئے پھرتے ہو سوسائٹی میں، اس لئے نہیں کہ تمہیں پسند ہے اس لئے کہ تم پیچھے چلنے لگ گئے ہو، تم غلام ہو گئے ہو اور غلام کی کوئی عزت نفس نہیں ہوا کرتی۔ان کو یہ سمجھائیں کہ کیا ہو گیا ہے۔تم فیشن کی پیروی کرنے والے نہ بنوفیشن بنانے والے بن جاؤ۔وہ بنو جس کے پیچھے لوگ چلا کرتے ہیں۔تو اگر بچے سمجھ جائیں بات کو تو ان کے اندر تبدیلی ہوتی ہے۔انگلستان میں بارہا ایسا مجھے تجربہ ہوا ہے کئی بڑے بڑے چھتوں والے میرے پاس آئے بعضوں نے گتیں بنائیں ہوئی تھیں اور میں نے کہا یہ تم نے کیا کیا ہوا ہے۔تو ماں باپ نے کہا کہ یہ بات نہیں مانتا آپ چھوڑ دیں اس کو۔میں نے کہا کیوں نہیں مانتا میں ابھی سمجھاتا ہوں اس کو اور اگلی دفعہ آئے بالکل نارمل، گنتیں کاٹی ہوئی ، بعضوں نے میرے سامنے ہی اپنے تعویذ نوچ پھینکے کہ آج کے بعد ہم نہیں پہنیں گے یہ ذلیل چیز ہے۔تو سمجھانے سے انسان اپنے اندر تبدیلی پیدا کیا کرتا ہے اور سمجھانے سے اندر کا انسان بدلتا ہے۔جب تک آپ اندر کے انسان کو نہیں بدلیں گے بیرونی انسان بدلنے سے کیا حاصل ہوگا۔پس وہ سوسائٹی جو مخالفانہ اثر رکھنے والی سوسائٹی ہے اس نے تو ہر وقت آپ کے بچوں کو