خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 460
خطبات طاہر جلد 16 460 خطبہ جمعہ 20 / جون 1997 ء جاتا ہے۔کہتا ہے چھوٹی سی بات تھی کچھ بھی نہیں تھا آپ نے تو بہت ہی محسوس کیا ہے۔تو شکر کرنے والا حقیقت میں ایک بات کا شکر ادا کر رہا ہوتا ہے اور جو اس کے جواب میں شکریہ ادا کرتا ہے وہ صرف شکر کا شکر یہ ادا کرتا ہے۔تو شکر کو طاقت دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ نظام قائم فرمایا ہے کہ بندہ ایک شکر کرتا ہے اللہ دس شکر کرتا ہے اور ہر شکر کے جواب میں اس پر اور زیادہ احسان فرماتا ہے۔اس طرح بچے کو اگر آپ سمجھا ئیں تو وہ خود دیکھے گا اپنی آنکھوں سے دیکھے گا کہ واقعتہ ایسا ہوتا ہے، واقعہ اللہ تعالیٰ ہمارے ادنی ادنی شکر کو قبول فرماتے ہوئے اتنا شکر ادا کرتا ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ایسے موقع پر لازم ہے کہ روح پچھلے خدا کے حضور اور ایسے موقع پر لازم ہے کہ روح خدا کے حضور سجدہ ریز ہو اور یہ باتیں وہ ہیں جو روزمرہ کے تجربے میں آئی ہوئی باتیں ہیں، کوئی فلسفہ ایسا نہیں جو آسمان پر اڑ رہا ہے۔یہ فلسفہ وہ ہے جو روزمرہ کی زندگی میں انسانی تعلقات میں بھی ہم دیکھ رہے ہیں اور بندے اور خدا کے تعلق میں بھی یہی دکھائی دیتا ہے۔تو محض یہ کہہ دینا کہ جی پانچ وقت نمازیں ضروری ہیں تم نے لازماً پڑھنی ہیں یہ اور بات ہے اور ان نمازوں سے محبت پیدا کرنا اور نمازوں کا فلسفہ سکھانا یہاں تک کہ وہ دل کو متحرک کر دے، دل میں ایک تموج پیدا کر دے یہ وہ چیز ہے جو بچوں کی آئندہ نمازوں کی حفاظت کرے گی اور ایسی حفاظت کرے گی کہ ماں باپ بچپن سے ہی ان کو چھوڑ کر جا سکتے ہیں پھر وہ خدا کے حوالے ہوں گے، اللہ ان کا ہاتھ پکڑ لے گا اور ماں باپ کی آرزوؤں کو ایسے وقت میں پورا کرے گا جب ماں باپ موجود ہی نہیں ہیں۔پس اگر اپنے بچوں کے دل میں خدا کی محبت عبادت کے حوالے سے پیدا کریں تو یہ نظام وہ ہے جو بچوں کی ہر حال میں ہر جگہ حفاظت فرمائے گا۔ایسے اعلیٰ کردار کے بچے جب پیدا ہوں پھر وہ سوسائٹی میں جائیں تو ان کو اس کی کوئی بھی پرواہ نہیں ہوگی یعنی اس پہلو سے تو پر واہ ہوگی کہ یہ بھی اچھے ہو جائیں، اس پہلو سے پرواہ ہوگی کہ ان کو بھی میں بتاؤں کہ خدا کی محبت میں کیا مزے ہیں نیکیوں میں کیا لذات ہیں۔مگر اس پہلو سے کوئی پرواہ نہیں ہوگی کہ وہ ان کی نیکیوں کو بدی کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔چنانچہ آپ ہی کے امریکہ میں ایک دفعہ نہیں بارہا ایسا ہوا ہے کہ بعض احمدی بچوں نے لڑکوں نے یا بعض احمدی لڑکیوں نے خطوں کے ذریعے مجھ سے سوال کئے اس طرح ہمارے لئے مسئلہ در پیش