خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 40

خطبات طاہر جلد 16 40 40 خطبہ جمعہ 17 /جنوری 1997ء اور رمضان مبارک میں ایک بہت اچھا موقع ہے کیونکہ فضا سازگار ہو جاتی ہے۔رمضان ایک ایسا مہینہ ہے جس میں ایسے چہرے بھی دکھائی دیتے ہیں مسجدوں میں جو پہلے کبھی دکھائی نہیں دیتے اور ان کو دیکھ کر دل میں کسی قسم کی تحقیر کے جذبے نہیں پیدا ہوتے کیونکہ اگر کوئی انسان ان چہروں کو دیکھے اور تحقیر کی نظر سے کہ اب آ گیا ہے رمضان میں، پہلے کہاں تھا تو میرا یہ ایمان ہے کہ ایسی نظر سے دیکھنے والے کی اپنی عبادتیں بھی سب باطل ہو جائیں گی اور ضائع ہو جائیں گی کیونکہ اللہ کے دربار میں اگر کوئی حاضر ہوتا ہے، ایک دفعہ بھی حاضر ہوتا ہے، اگر آپ کو اللہ سے محبت ہے تو پیار کی نظر ڈالنی چاہئے اس پر اور کوشش کرنی چاہئے کہ اس کو اور قریب کریں اور اس کو بتا ئیں کہ الحمدللہ تمہیں دیکھ کر بہت ہی خوشی ہوتی ہے۔تم اٹھے ، تکلیف کی ہے، پہلے عادت نہیں تھی، اب آگئے ہو۔بسم اللہ، جی آیا نوں کہو اس کو اور اس کو پیار کے ساتھ سینے سے لگائیں تا کہ آپ کے ذریعے سے اور آپ کے اخلاص کے اظہار کے ذریعے سے وہ ہمیشہ کے لئے خدا کا ہو جائے۔یہ وہ طریق ہے جس سے آپ اپنے گھر میں اپنے بچوں کی بہت عمدہ تربیت کر سکتے ہیں۔جب وہ صبح اٹھتے ہیں تو ان کو پیار اور محبت کی نظر سے دیکھیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ان کو بتائیں کہ تم جو اٹھے ہو تو خدا کی خاطر اٹھے ہو اور ان سے یہ گفتگو کیا کریں کہ بتاؤ آج نماز میں تم نے کیا کیا۔کیا اللہ سے باتیں کیں، کیا دعائیں کیں اور اس طریق پر ان کے دل میں بچپن ہی سے خدا تعالیٰ کی محبت کے بیچ مضبوطی سے گاڑے جائیں گے یعنی جڑیں ان کی مضبوط ہوں گی۔ان میں وہ تمام صلاحیتیں جو خدا کی محبت کے بیچ میں ہوا کرتی ہیں وہ نشو ونما پا کر کونپلیں نکالیں گی۔پس رمضان اس پہلو سے کاشتکاری کا مہینہ ہے۔آپ نے بچوں کے دلوں میں خدا کی محبت کے بیج بونے ہیں۔اس طریق پر ان کی آبیاری کرنی ہے یعنی روز مرہ ان کو نیک باتیں بتا بتا کرتا کہ ان بیجوں سے بڑی سرسبز خوشنما کونپلیں پھوٹیں اور رفتہ رفتہ وہ بچے ایک کلمہ طیبہ کی صورت اختیار کر جائیں جس کی جڑیں تو زمین میں پیوستہ ہوتی ہیں مگر شاخیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔تو رمضان مبارک کو روزوں کے لحاظ سے جیسے گزارنا ہے وہ تو عام طور پر سب جانتے ہی ہیں مگر میں ان فائدوں پر نگاہ رکھ رہا ہوں جو رمضان میں خاص طور پر ہجوم کر کے آجاتے ہیں اور اس وقت آپ اس ہجوم سے استفادہ کریں اور زیادہ سے زیادہ برکتیں لوٹ لیں۔یہ مقصد ہے اس نصیحت