خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 449 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 449

خطبات طاہر جلد 16 449 خطبہ جمعہ 20 / جون 1997 ء ایسے تجربے کرنے پر آزادی محسوس کرے گا۔پس یہ نہ سمجھیں کہ معاشرے کی خرابیوں کو سمجھانے کا وقت بلوغت کے بعد شروع ہوگا۔بچپن سے سمجھانا ضروری ہے، ان بچوں کے ساتھ بیٹھنا ضروری ہے، ان کو ٹیلی ویژن دکھانی ضروری ہے۔جو ٹیلی ویژن یہ دیکھتے ہیں اس وقت ماں باپ کو چاہئے کہ کچھ اپنا وقت خرچ کریں اور ساتھ بیٹھیں اور ان کو بتائیں کہ دیکھو یہ خرابیاں ہیں اور ان خرابیوں کی حکمتیں اس طریق پر سمجھائی جائیں کہ وہ جاگزیں ہو جائیں اور انسانی فطرت اور سوچ کا حصہ بن جائیں۔اس سلسلے میں چند مثالیں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں، مثلاً اگر ان کو یہ سمجھایا جائے کہ یہ بدیاں چیز کیا ہیں؟ کیوں ان سے منع کیا جاتا ہے؟ نیکیاں کیا ہوتی ہیں؟ اور نیکی کے فوائد کیا ہیں؟ اور پھر معاشرے کے حوالے سے ان کی تفصیل سمجھائی جائے تو ناممکن ہے کہ بچہ ان امور کی طرف توجہ نہ دے۔پہلی بات جو نمایاں طور پر ان کے سامنے رکھنی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ بدی سے ایک لذت پیدا ہوتی ہے اس کا انکار کرنا جائز نہیں۔ہر قسم کی بدی سے ایک لذت حاصل ہوتی ہے لیکن وہ لذت ہمیشہ یا الٹ کر اس بدی کرنے والے کو نقصان پہنچاتی ہے یا ماحول کو نقصان پہنچاتی ہے۔پس ہر وہ لذت جس کے ساتھ ایک نقصان وابستہ ہو چکا ہے جس سے اس کو علیحدہ کیا جاہی نہیں سکتا وہ بدی ہے لیکن لذت سے محرومی کا نام نیکی نہیں ہے۔یہ اگلا قدم ہے جس پر ان کو خوب اچھی طرح سمجھانا ضروری ہے کہ ہم جو تمہیں نیکی کی طرف بلاتے ہیں اس لئے کہ نیکی میں ایک لذت ہے اور ان بدی کی لذت اور نیکی کی لذت میں بہت بڑا فرق ہے۔بدی کی لذت میں ضرور کوئی نہ کوئی کانٹا چھپا ہوتا ہے وہ ضرور نقصان پہنچاتی ہے اور جتنی بھی موجود سوسائٹی کی بدیاں ہیں ان کو دیکھ لیں وہ لازما سوسائٹی میں بے اطمینانی پیدا کریں گے اور کسی نہ کسی خرابی پر منتج ہوں گی۔چنانچہ ساری سوسائٹی میں وہ خرابی بے چینی بن کر ابھرتی ہے لیکن سوسائٹی اس بے چینی کے باوجود اپنی لذت کے حصول کی خاطر اس کی طرف لپکتی بھی ہے۔یہ وہ تضاد ہے معاشرے کا جس کو بچپن ہی سے اپنی اولاد کے سامنے کھول کر بیان کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے چھوٹی چھوٹی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔مثلاً ایک بچے سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ تم اگر اپنے بھائی کی کوئی چیز لے کر بھاگ جاؤ تو تمہیں تو مزہ آئے گا، تمہیں کچھ حاصل ہوگا، یہ درست ہے نا!۔یہ بات ہے۔اپنی چھوٹی بہن سے کوئی چیز چھین لو تو تم لطف اٹھاؤ گے لیکن یہ ایسا لطف